حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 572
المولد مدت سے آبادی نہ تھی۔ اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین و آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔ یہاں تک کہ ہر ایک عقلمند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی۔ اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں ان کا پتہ نہیں ملے گا۔ تب انسانوں میں میں اضطراب پیدا پیدا ہوگا ہو گا کہ یہ یہ کیا ہونے والا والا ہے ہے اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہو جائیں گے ۔ وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ گے۔ ہیں دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی ۔ اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔ اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے جیسا کہ خدا نے فرمایا وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ! اور توبہ کرنے والے امان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں ان پر رحم کیا جائے گا۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ انسانی کاموں کا اس دن خاتمہ ہو گا ۔ یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔ اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اسے جزائر کے رہنے والو کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں ۔ وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا۔ مگر اب وہ ہیت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔ میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں ۔ پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے جائے ۔ گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لوگے ۔ مگر خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جا ۔ ا جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی ۔ اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔ (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۶۸، ۲۶۹) سونے والو! جلد جا گو یہ نہ وقت خواب ہے جو خبر دی وحی حق نے اُس سے دل بے تاب ہے بنی اسرائیل: ۱۶