حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 557 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 557

۱۲۳۹ کئے تھے اور طرح طرح کی تائید میں اور طرح طرح کی نصرتیں کیں اور جن مشکلات کے تصور سے قریب تھا کہ میری کمر ٹوٹ جائے اور جن عموں کی وجہ سے مجھے خوف تھا کہ میں ہلاک ہو جاؤں ان تمام مشکلات اور تمام غموں کو دور فرمایا اور جیسا کہ وعدہ کیا تھا ویسا ہی ظہور میں لایا۔اگر چہ وہ بغیر سبقت پیشگوئیوں کے بھی میری نصرت اور تائید کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہ کیا بلکہ ایسے زمانہ اور ایسی نومیدی کے وقت میں میری تائید اور نصرت کے لئے پیشگوئیاں فرمائیں کہ وہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زمانہ سے مشابہ تھا جبکہ آپ مکہ معظمہ کی گلیوں میں اکیلے پھرتے تھے اور کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا کوئی صورت کامیابی کی ظاہر نہیں تھی۔اسی طرح وہ پیشگوئیاں جو میرے گمنامی کے زمانہ میں کی گئیں اس زمانہ کی نگاہ میں ہنسی کے لائق اور دُور از قیاس تھیں اور ایک دیوانہ کی بڑ سے مشابہ تھیں۔کس کو معلوم تھا کہ جیسا کہ ان پیشگوئیوں میں وعدہ فرمایا گیا ہے سچ سچ کسی زمانہ میں ہزار ہا انسان میرے پاس قادیان میں آئیں گے اور کئی لاکھ انسان میری بیعت میں داخل ہو جائیں گے۔اور میں اکیلا نہیں رہوں گا جیسا کہ اس زمانہ میں اکیلا تھا۔اور خدا نے گمنامی اور تنہائی کے زمانہ میں یہ خبریں دیں تا وہ ایک دانشمند اور طالب حق کی نظر میں عظیم الشان نشان ہوں اور تا سچائی کے ڈھونڈ نے والے یقین دل سے سمجھ لیں کہ یہ کاروبار انسان کی طرف سے نہیں ہے اور نہ ممکن ہے کہ انسان کی طرف سے ہو۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۵ تا ۷۰ ) ہم نے طاعون کے بارے میں جو رسالہ دافع البلاء لکھا تھا اس سے یہ غرض تھی کہ تا لوگ متنبہ ہوں اور اپنے سینوں کو پاک کریں اور اپنی زبانوں اور آنکھوں اور کانوں اور ہاتھوں کو نا گفتنی اور نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے روکیں اور خدا سے خوف کریں تا خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے۔اور وہ خوفناک وباء جوان کے ملک میں داخل ہوگئی ہے دُور فرما دے۔مگر افسوس کہ شوخیاں اور بھی زیادہ ہوگئیں اور زبانیں اور بھی دراز ہو گئیں۔انہوں نے ہمارے مقابل پر اپنے اشتہاروں میں کوئی بھی دقیقہ ایذاء اور سب وشتم کا اٹھا نہیں رکھا اور کسی قسم کی ایذاء سے دستکش نہیں ہوئے مگر اسی سے جس تک ہاتھ نہیں پہنچ سکا۔لعنت اور سب وشتم میں وہ ترقی کی کہ شیعہ مذہب کے لوگوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔کیونکہ شیعہ نے تو اپنے خیال میں لعنت بازی کے فن کو حرف الف سے شروع کر کے حرف یا ء تک پہنچا دیا تھا۔یعنی ابوبکر سے یزید تک مگر یہ لوگ جو اہل حدیث اور حنفی کہلاتے ہیں انہوں نے اس کارروائی کو نا مکمل سمجھ کر لعنت بازی کے دائرہ کو اس طرح پر پورا کیا کہ جس شخص کو خدا نے آدم سے لے کر یسوع مسیح تک مظہر جمیع انبیاء قرار دیا