حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 52
۷۳۴ جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو طاعتِ خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے۔اور پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں ایسے شوق و ذوق و حضور دل سے بجالاتا ہے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے۔اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہم رنگ ہو جاتا ہے اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے اور تمام اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذذ اور احظاظ کی کشش سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔وہ نقد بہشت ہے جو روحانی انسان کو ملتا ہے۔اور وہ بہشت جو آئندہ ملے گا وہ در حقیقت اسی کی اخلال و آثار ہے جس کو دوسرے عالم میں قدرتِ خداوندی جسمانی طور پر متمثل کر کے دکھلائے گی۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ وَسَقْهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا۔عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِيْرًا وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَلْجَبِيلًا۔عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْللًا وَسَعِيرًا وَ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى وَأَضَلُّ سَبِيلًا۔یعنی جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اُس کی عظمت و جلال کے مرتبہ سے حراساں ہے اس کے لئے دو بہشت ہیں۔ایک یہی دنیا اور دوسری آخرت۔اور ایسے لوگ جو خدا میں محو ہیں خدا نے ان کو وہ شربت پلایا ہے جس سے اُن کے دل اور خیالات اور ارادات کو پاک کر دیا۔نیک بندے وہ شربت پی رہے ہیں جس کی ملونی کافور ہے۔وہ اس چشمہ سے پیتے ہیں جس کو وہ آپ ہی چیرتے ہیں۔اور میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ کافور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغت عرب میں کفر دبانے کو اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسے خلوص سے انقطاع اور رجوع الی اللہ کا پیالہ پیا ہے کہ دنیا کی محبت بالکل ٹھنڈی ہو گئی ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ تمام جذبات دل کے خیال سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔اور جب دل نالائق خیالات سے بہت ہی دُور چلا جائے اور کچھ تعلقات ان سے باقی نہ رہیں تو وہ جذبات بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ نابود ہو جاتے ہیں۔سو اس جگہ خدا تعالیٰ کی یہی غرض ہے اور وہ اس آیت میں یہی سمجھاتا الرحمن: ۴۷ الدهر : ٢٢ الدهر ، الدهر: ١٩،١٨ ه الدهر : ۵ بنی اسرآئیل: ۷۳