حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 544
عظمت بٹھائی جائے۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدْوَ انا میری طرف دوڑیں گے۔یہ جو میں نے ذکر کیا ہے یہ خدا کا کلام ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جو خلقت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے ہماری اس مہلک بیماری کے لئے شفاعت کر۔تم یقینا سمجھو کہ آج تمہارے لئے بجز اس مسیح کے اور کوئی شفیع نہیں باستثناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔اور یہ شفیع آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہے بلکہ اس کی شفاعت در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شفاعت ہے۔اے عیسائی مشنریو! اب رَبُّنَا الْمَسِيحَ مت کہو۔اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔اور اے قوم شیعہ! اس پر اصرارمت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ایسا نہ ہو کہ تم اس سے لڑنے والے ٹھہر و۔اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے۔جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔سچا شفیع میں ہوں جو اُس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کا ظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔اس لئے خدا نے اس وقت اس گناہ کا ایک ہی لفظ کے ساتھ پادریوں سے بدلہ لے لیا۔کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسی بن مریم کو خدا بنایا اور ہمارے سید ومولی حقیقی شفیع کو گالیاں دیں اور بد زبانی کی۔کتابوں سے زمین کو نجس کر دیا۔اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنی غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔یعنی وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔اے عزیز و! یہ بات غصہ کرنے کی نہیں۔اگر اس احمد کے غلام کو جو مسیح موعود کر کے بھیجا گیا ہے تم اس پہلے مسیح سے بزرگ تر نہیں سمجھتے اور اس کو شفیع اور منجی قرار دیتے ہو تو اب اپنے اس دعوی کا ثبوت دو۔اور جیسا کہ اس احمد کے غلام کی نسبت خدا نے فرمایا اِنهُ اوَى الْقَرْيَةَ لَوَلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ