حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 543

۱۲۲۵ کے پادری داخل ہیں چپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیان سورج کی طرح چمک کر دکھلا دے گی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔بالآ خر میاں شمس الدین صاحب کو یاد رہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَر کے لکھی ہے اور اس سے قبولیت دعا کی امید کی ہے۔یہ امید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلاء کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے ان قوموں کو ہلاک کر دیا اور اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے کہ مَا دُعَوُا الْكُفِرِيْنَ إِلَّا فِي ضَللٍ : اور چونکہ احتمال ہے کہ بعض نبی الطبع اس اشتہار کا اصل منشاء سمجھنے میں غلطی کھا ئیں اس لئے ہم مکررا اپنے فرض دعوت کا اظہار کر دیتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ یہ طاعون جو ملک میں پھیل رہی ہے۔کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیشگوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے۔اور لوگوں نے نہ صرف انکار بلکہ خدا کے اس مسیح کو گالیاں دیں۔کافر کہا اور قتل کرنا چاہا اور جو کچھ چاہا اس سے کیا اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ ان کی اس شوخی اور بے ادبی پر اُن پر تنبیہہ نازل کرے۔اور خدا نے پہلے پاک نوشتوں میں خبر دی تھی کہ لوگوں کے انکار کی وجہ سے ان دنوں میں جب مسیح ظاہر ہو گا ملک میں سخت طاعون پڑے گی۔سوضرور تھا کہ طاعون پڑتی۔اور طاعون کا نام طاعون اس لئے رکھا گیا کہ یہ طعن کرنے والوں کا جواب ہے۔اور بنی اسرائیل میں ہمیشہ طعن کے وقت میں ہی پڑا کرتی تھی۔اور طاعون کے لغت عرب میں معنے ہیں۔بہت طعن کرنے والا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طاعون طعن و تشنیع کی ابتدائی حالت میں نہیں پڑتی بلکہ جب خدا کے مامور اور مرسل کو حد سے زیادہ ستایا جاتا ہے اور توہین کی جاتی ہے تو اُس وقت پڑتی ہے۔سواے عزیز و! اس کا بجز اس کے کوئی بھی علاج نہیں کہ اس مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کر لیا جاوے۔یہ تو یقینی علاج ہے اور اس سے کمتر درجہ کا یہ علاج ہے کہ اس کے انکار سے منہ بند کر لیا جائے اور زبان کو بد گوئی سے روکا جائے اور دل میں اس کی النمل: ۶۳ ۲ المؤمن: ۵۱