حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 520
جلسہ اعظم مذاہب وہ جلسہ مذاہب جو لاہور میں ہوا تھا اس کی نسبت مجھے پہلے سے خبر دی گئی کہ وہ مضمون جو میری طرف سے پڑھا جائے گا وہ سب مضمونوں پر غالب رہے گا۔چنانچہ میں نے قبل از وقت اس بارے میں اشتہار دے دیا جو حاشیہ میں لکھا جاتا ہے۔اور اس الہام کے موافق میرے اس مضمون کی جلسہ مذاہب میں ایسی قبولیت ظاہر ہوئی کہ مخالفوں نے بھی اقرار کیا ہے کہ وہ مضمون سب سے اول رہا ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲۹۹ تا ۳۰۱) سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری اعظم مذاہب جو لا ہور ٹاؤن ہال میں ۲۶ ۲۷ ۲۸ / دسمبر ۱۸۸۶ء کو ہو گا اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارہ میں پڑھا جائے گا یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ در حقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہے اور جو شخص اس مضمون کو اوّل سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب میں سُنے گامیں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اس میں پیدا ہو جائے گا اور ایک نیا نوراُس میں چمک اُٹھے گا اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک جامع تفسیر اس کے ہاتھ آ جائے گی۔یہ میری تقریر انسانی فضولیوں سے پاک اور لاف و گزاف کے داغ سے منزہ ہے۔مجھے اس وقت محض بنی آدم کی ہمدردی نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجبور کیا ہے کہ تا وہ قرآن شریف کے حسن و جمال کا مشاہدہ کریں۔اور دیکھیں کہ ہمارے مخالفوں کا کس قدر ظلم ہے کہ وہ تاریکی سے محبت کرتے اور اس نور سے نفرت رکھتے ہیں۔مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قومیں بشرطیکہ حاضر ہوں اور اس کو