حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 510
۱۱۹۲ الفاظ القا کرتا ہے۔نئی اور بناوٹی زبان بنا لینا آسان ہے مگر ٹھیٹھ زبان مشکل ہے۔پھر ہم نے ان تصانیف کو بیش قرار انعامات کے ساتھ شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ تم جس سے چاہو مدد لے لو۔اور خواہ اہل زبان بھی ملا لو۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس بات کا یقین دلا دیا ہے کہ وہ ہرگز قادر نہیں ہو سکتے۔کیونکہ نشان قرآن کریم کے خوارق میں سے ظلی طور پر مجھے دیا گیا ہے۔دوم دعاؤں کا قبول ہونا۔میں نے عربی تصانیف کے دوران میں تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے کہ کس قدر کثرت سے میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔ایک ایک لفظ پر دعا کی ہے اور میں رسول اللہ علیہ کو تو مستی کرتا ہوں ( کیونکہ ان کی طفیل اور اقتداء سے تو یہ سب کچھ ملا ہی ہے ) اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میری دعا ئیں اس قدر قبول ہوئی ہیں کہ کسی کی نہیں ہوئی ہوں گی۔میں نہیں کہہ سکتا دس ہزار یا دولاکھ یا کتنی اور بعض نشانات قبولیت کے تو ایسے ہیں کہ ایک عالم ان کو جانتا ہے۔تیسرانشان پیشگوئیوں کا ہے۔یعنی اظہار علی الغیب۔یوں تو نجومی اور رمال لوگ بھی انکل بازیوں سے بعض باتیں ایسی کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کچھ نہ کچھ حصہ ٹھیک ہوتا ہے۔اور ایسا ہی تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھی کا ہن لوگ تھے جو غیب کی خبریں بتلاتے تھے۔چنانچہ شیح بھی ایک کا ہن تھا۔مگر ان انکل باز رمالوں اور کاہنوں کی غیب دانی اور مامور من اللہ اور مہم کے اظہار غیب میں یہ فرق ہوتا ہے۔۔چوتھا نشان قرآن کریم کے دقائق اور معارف کا ہے۔کیونکہ معارف قرآن اس شخص کے سوا اور کسی پر نہیں کھل سکتے جس کی تطہیر ہو چکی ہو۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (پ۲۷) میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ میرے مخالف بھی ایک سورۃ کی تفسیر کریں اور میں بھی تفسیر کرتا ہوں پھر مقابلہ کر لیا جاوے۔مگر کسی نے جرات نہیں کی۔(الحکم مورخه ۲۰ تا ۲۷ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحه ۴،۳۔ملفوظات جلد اول صفحه ۱۸۳٬۱۸۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یہ پیشگوئیاں ایسی ہیں کہ ایک راستباز کے ان کو سنکر آنسو جاری ہو جائیں گے مگر پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔یہ خیال نہیں کرتے کہ آخر ہم نے بھی ایک دن مرنا ہے۔وہ نشان جوان کو دکھلائے گئے اگر نوح کی قوم کو دکھلائے جاتے تو وہ غرق نہ ہوتی اور اگر لوط کی قوم ان سے اطلاع اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۱۰) پاتی تو ان پر پتھر نہ برستے۔الواقعة: ٨٠