حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 507 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 507

۱۱۸۹ دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔یہ مشکلات کچھ ہمارے ہی زمانہ میں پیدا نہیں ہوئیں بلکہ ممکن ہے کہ انہی زمانوں میں یہ مشکلات پیدا ہوگئی ہوں۔مثلاً جب ہم یوحنا کی انجیل کے 66 پانچویں باب کی دوسری آیت سے پانچویں آیت تک دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں:۔اور اورشلیم میں باب الضان کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتا ہے۔اس کے پانچ اُسارے ہیں ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور پژمردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ملنے کی منتظر تھی کیونکہ ایک فرشتہ بعض وقت اس حوض میں اتر کر پانی کو ہلا تا تھا اور پانی ملنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اُتر تا کیسی ہی بیماری میں کیوں نہ ہو اس سے چنگا ہو جاتا تھا۔اب ظاہر ہے کہ وہ شخص جو حضرت عیسی کی نبوت کا منکر ہے اور ان کے معجزات کا انکاری ہے جب یوحنا کی یہ عبارت پڑھے گا اور ایسے حوض کے وجود پر اطلاع پائے گا کہ جو حضرت عیسی کے ملک میں قدیم سے چلا آتا تھا اور جس میں قدیم سے یہ خاصیت تھی کہ اس میں ایک ہی غوطہ لگانا ہر یک قسم کی بیماری کو گودہ کیسی ہی سخت کیوں نہ ہو دور کر دیتا تھا تو خوانخوہ اس کے دل میں ایک قومی خیال پیدا ہوگا کہ اگر حضرت مسیح نے کچھ خوارق عجیبہ دکھلائے ہیں تو بلا شبہ ان کا یہی موجب ہوگا کہ حضرت ممدوح اسی حوض کے پانی میں کچھ تصرف کر کے ایسے ایسے خوارق دکھلاتے ہوں گے کیونکہ اس قسم کے اقتباس کی ہمیشہ دنیا میں بہت سی نظیریں پائی گئی ہیں اور اب بھی ہیں اور عند العقل یہ بات نہایت صحیح اور قرین قیاس ہے کہ اگر حضرت عیسی کے ہاتھ سے اندھوں لنگڑوں وغیرہ کو شفا حاصل ہوئی ہے تو بالیقین یہ نسخہ حضرت مسیح نے اسی حوض سے اڑایا ہوگا اور پھر نادانوں اور سادہ لوحوں میں کہ جو بات کی تہ تک نہیں پہنچتے اور اصل حقیقت کو نہیں شناخت کر سکتے یہ مشہور کر دیا کہ ایک روح کی مدد سے ایسے ایسے کام کرتا ہوں۔بالخصوص جبکہ یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح اسی حوض پر اکثر جایا بھی کرتے تھے تو اس خیال کو اور بھی قوت حاصل ہوتی ہے غرض مخالف کی نظر میں ایسے معجزوں سے جو کہ قدیم سے حوض دکھلاتا رہا ہے حضرت عیسی کی نسبت بہت سے شکوک اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور اس بات کے ثبوت میں بہت سی مشکلات پڑتی ہیں کہ یہودیوں کی رائے کے موافق مسیح مکار اور شعبدہ باز نہیں تھا اور نیک چلن آدمی تھا۔جس نے اپنے عجائبات کے دکھلانے میں اس قدیمی حوض سے کچھ مدد نہیں لی اور سچ سچ معجزات ہی دکھائے ہیں۔اور اگر چہ قرآن شریف پر ایمان لانے کے بعد ان وساوس سے نجات حاصل ہو جاتی ہے مگر جو شخص ابھی قرآن شریف پر ایمان نہیں لایا اور یہودی یا ہندو یا عیسائی ہے وہ کیونکر ایسے وساوس سے نجات پاسکتا ہے