حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 495
قدیم قانون حضرت احدیت جلشانہ اسی طور پر چلا آتا ہے کہ جیسے جیسے انسان کا بھروسہ خدائے تعالیٰ پر بڑھتا ہے ایسا ہی اس طرف سے الوہیت کی قدرتوں کے چکار اور اس کی کرنیں زیادہ زیادہ اس پر پڑتی ہیں اور جیسے جیسے اس طرف سے ایک پاک اور کامل تعلق ہوتا جاتا ہے ایسا ہی اس طرف سے بھی کامل اور طیب برکتیں ظاہر و باطن پر اترتی ہیں۔اور جیسی جیسی محبت الہی کی موجیں عاشق صادق کے دل سے اٹھتی ہیں ایسا ہی اس طرف سے بھی ایک نہایت صاف اور شفاف دریائے محبت کا زور شور سے چھوٹتا ہے اور دائرہ کی طرح اس کو اپنے اندر گھیر لیتا ہے اور اپنے الہی زور سے کھینچ کر کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے اور جیسا یہ امر صاف صاف ہے ویسا ہی ہمارے نیچر کے مطابق بھی ہے۔ہم تم بھی جیسے جیسے دوستی اور محبت اور اخلاص میں بڑھتے ہیں تو اس دو طرفہ صفائی محبت کی یہی نشانی ہوا کرتی ہے کہ دونوں طرف سے آثار خلوص و اتحاد و یگانگت کے ظاہر ہوں نہ صرف ایک طرف سے ہو۔ہر یک دوست اپنے دوست کے ساتھ عوام الناس کی نسبت معاملہ خارق عادت رکھتا ہے۔جب انسان اپنی پہلی زندگی کی نسبت ایک ایسی نئی زندگی حاصل کرتا ہے جس کو نسبتی طور پر خارق عادت کہہ سکتے ہیں تو اسی دم سے وہی قدیم خدا اپنی تجلیات نادرہ کے رُو سے ایک نیا خدا اس کے لئے ہو جاتا ہے۔اور وہ عادتیں اس کے ساتھ ظہور میں لاتا ہے جو پہلی زندگی کی حالت میں کبھی خیال میں بھی نہیں آئی تھیں۔خوارق کی کل جس سے عجائبات قدرتیہ حرکت میں آتی ہیں انسان کی تبدیلی یافتہ روح ہے اور وہ کچی تبدیلی یاں تک آثار نمایاں دکھاتی ہے کہ بعض اوقات ایک ایسے طور سے شور محبت دل پر استیلاء پکڑتا ہے کہ عشق الہی کے پر زور جذبات اور صدق اور یقین کی سخت کششیں ایسے مقام پر انسان کو پہنچا دیتی ہیں کہ اس عجیب حالت میں اگر وہ آگ میں ڈالا جائے تو آگ اس پر کچھ اثر نہیں کرسکتی۔اگر وہ شیروں اور بھیڑیوں اور ریچھوں کے آگے پھینک دیا جائے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔کیونکہ اس وقت وہ صدق اور عشق کے کامل اور قوی تجلیات سے بشریت کے خواص کو پھاڑ کر کچھ اور ہو جاتا ہے۔اور جس طرح لوہے کے ظاہر و باطن پر آگ مستولی ہوکر اس کو اپنے رنگ میں لے آتی ہے اسی طرح یہ بھی آتش محبت الہی کے ایک سخت استیلاء سے کچھ کچھ اس طاقتِ عظمی کے خواص ظاہر کرنے لگتا ہے جو اس پر محیط ہوگئی ہے۔سو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ عبودیت پر ربوبیت کا کامل اثر پڑنے سے اس سے ایسے خوارق ظاہر ہوں بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ ایسے اثر کے بعد بھی عبودیت کی معمولی حالت میں کچھ فرق پیدا نہ ہو کیونکہ اگر لوہا آگ میں تپانے سے کسی قدر خاصہ آگ کا ظاہر کرنے لگے تو یہ امر سراسر مطابق قانون قدرت ہے لیکن اگر سخت تپانے کے بعد بھی اسی پہلی حالت پر