حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 496
۱۱۷۸ رہے اور کوئی خاصیت جدید اس میں پیدا نہ ہو تو یہ عند العقل صریح باطل ہے۔سو فلاسفی تجارب بھی ان خوارق کے ضروری ہونے پر شہادت دے رہے ہیں۔یہ افسانہ نہیں اس پر عارفانہ روح لے کر غور کرو۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۰۵ تا ۱۰۷) یا در ہے کہ معجزہ صرف حق اور باطل میں فرق دکھلانے کے لئے اہل حق کو دیا جاتا ہے اور معجزہ کی اصل غرض صرف اس قدر ہے کہ عقلمندوں اور منصفوں کے نزدیک سچے اور جھوٹے میں ایک مابہ الامتیاز قائم ہو جائے اور اسی حد تک معجزہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو ما بہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے کافی ہو اور یہ اندازہ ہرایک زمانہ کی حاجت کے مناسب حال ہوتا ہے اور نیز نوعیت معجزہ بھی حسب حال زمانہ ہی ہوتی ہے۔یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ ہر ایک متعصب اور جاہل اور بدطبع گو کیسا ہی مصلحت الہیہ کے برخلاف اور قدر ضرورت سے بڑھ کر کوئی معجزہ مانگے تو وہ بہر حال دکھلانا ہی پڑے۔یہ طریق جیسا کہ حکمت الہیہ کے برخلاف ہے ایسا ہی انسان کی ایمانی حالت کو بھی مضر ہے کیونکہ اگر معجزات کا حلقہ ایسا وسیع کر دیا جائے کہ جو کچھ قیامت کے وقت پر موقوف رکھا گیا ہے وہ سب دنیا میں ہی بذریعہ معجزہ ظاہر ہو سکے تو پھر قیامت اور دنیا میں کوئی فرق نہ ہو گا حالانکہ اسی فرق کی وجہ سے جن اعمال صالحہ اور عقائد صحیحہ کا جو دنیا میں اختیار کئے جائیں ثواب ملتا ہے وہی عقائد اور اعمال اگر قیامت کو اختیار کئے جائیں تو ایک رتی بھی ثواب نہیں ملے گا۔جیسا کہ تمام نبیوں کی کتابوں اور قرآن شریف میں بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کسی بات کا قبول کرنا یا کوئی عمل کرنا نفع نہیں دے گا اور اس وقت ایمان لانا محض بے کار ہوگا۔کیونکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے جبکہ کسی مخفی بات کو ماننا پڑے۔لیکن جبکہ پردہ ہی کھل گیا اور روحانی عالم کا دن چڑھ گیا اور ایسے امور قطعی طور پر ظاہر ہو گئے کہ خدا پر اور روز جزا پر شک کرنے کی کوئی بھی وجہ نہ رہی تو پھر کسی بات کو اس وقت ماننا جس کو دوسرے لفظوں میں ایمان کہتے ہیں محض تحصیل حاصل ہوگا۔غرض نشان اس درجہ پر کھلی کھلی چیز نہیں ہے جس کے ماننے کے لئے تمام دنیا بغیر اختلاف اور بغیر عذر اور بغیر چون و چرا کے مجبور ہو جائے اور کسی طبیعت کے انسان کو اس کے نشان ہونے میں کلام نہ رہے۔اور کسی نجی سے نبی انسان پر بھی وہ امر مشتبہ نہ رہے۔غرض نشان اور معجزہ ہر ایک طبیعت کے لئے ایک بدیہی امر نہیں جو دیکھتے ہی ضروری التسلیم ہو بلکہ نشانوں سے وہی عظمند اور منصف اور راستباز اور راست طبع فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنی فراست اور دُور بینی اور باریک نظر اور انصاف پسندی اور خدا ترسی اور تقویٰ شعاری سے دیکھ لیتے ہیں کہ وہ ایسے امور ہیں جو