حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 493 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 493

۱۱۷۵ اس قدر ہے کہ جو پاک نفس لوگ عام طریق و طرز انسانی سے ترقی کر کے اور معمولی عادات کو پھاڑ کر قرب الہی کے میدانوں میں آگے قدم رکھتے ہیں تو خدائے تعالیٰ حسب حالت ان کے ایک ایسا عجیب معاملہ ان سے کرتا ہے کہ وہ عام حالات انسانی پر خیال کرنے کے بعد ایک امر خارق عادت دکھائی دیتا ہے اور جس قدر انسان اپنی بشریت کے وطن کو چھوڑ کر اور اپنے نفس کے حجابوں کو پھاڑ کر عرصات عشق ومحبت میں دور تر چلا جاتا ہے اسی قدر یہ خوارق نہایت صاف اور شفاف اور روشن و تاباں ظہور میں آتے ہیں۔جب تزکیہ نفس انسانی کمال تام کی حالت پر پہنچتا ہے اور اس کا دل غیر اللہ سے بالکل خالی ہو جاتا ہے اور محبت الہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے تمام اقوال و افعال و اعمال و حرکات و سکنات وعبادات ومعاملات و اخلاق جو انتہائی درجہ پر اس سے صادر ہوتے ہیں وہ سب خارق عادت ہی ہو جاتے ہیں۔سو بمقابل اس کے ایسا ہی معاملہ باری تعالیٰ کا بھی اس مبدل تام سے بطور خارق عادت ہی ہوتا ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۹،۶۸ حاشیہ ) معجزہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ معجزہ ایسے امر خارق عادت کو کہتے ہیں کہ فریق مخالف اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز آ جائے۔خواہ وہ امر بظاہر نظر انسانی طاقتوں کے اندر ہی معلوم ہو۔جیسا کہ قرآن شریف کا معجزہ جو ملک عرب کے تمام باشندوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔پس وہ اگر چہ بنظر سرسری انسانی طاقتوں کے اندر معلوم ہوتا تھا لیکن اس کی نظیر پیش کرنے سے عرب کے تمام باشندے عاجز آگئے۔پس معجزہ کی حقیقت سمجھنے کے لئے قرآن شریف کا کلام نہایت روشن مثال ہے کہ بظاہر وہ بھی ایک کلام ہے جیسا کہ انسان کا کلام ہوتا ہے لیکن وہ اپنی فصیح تقریر کے لحاظ سے اور نہایت لذیذ اور مصفی اور رنگین عبارت کے لحاظ سے جو ہر جگہ حق اور حکمت کی پابندی کا التزام رکھتی ہے اور نیز روشن دلائل کے لحاظ سے جو تمام دنیا کے مخالفانہ دلائل پر غالب آگئیں اور نیز ز بر دست پیشگوئیوں کے لحاظ سے ایک ایسا لا جواب معجزہ ہے جو با وجود گذر نے تیرہ سو برس کے اب تک کوئی مخالف اس کا مقابلہ نہیں کر سکا۔اور نہ کسی کو طاقت ہے جو کرے۔قرآن شریف کو تمام دنیا کی کتابوں سے یہ امتیا ز حاصل ہے کہ وہ معجزانہ پیشگوئیوں کو بھی معجزانہ عبارات میں جو اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور فصاحت سے پر اور حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہیں بیان فرماتا ہے۔غرض اصلی اور بھاری مقصد معجزہ سے حق اور باطل یا صادق اور کاذب میں ایک امتیاز دکھلانا ہے۔اور ایسے امتیازی امر کا نام معجزہ یا دوسرے لفظوں میں نشان ہے۔نشان ایک ایسا ضروری امر ہے کہ اس کے بغیر خدائے تعالیٰ کے وجود پر بھی پورا یقین کرنا ممکن نہیں اور نہ وہ ثمرہ حاصل