حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 492
۱۱۷۴ اعتراض کا نام ونشان نہ رہے گا۔خوب یا د رکھنا چاہیئے کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی بھی امرایسا نہیں ہے جس کی نظیر پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں نہیں ہے۔یہ جاہل اور بے تمیز لوگ چونکہ دین کے بار یک علوم اور معارف سے بے بہرہ ہیں اس لئے قبل اس کے جو عادت اللہ سے واقف ہوں بخل کے جوش سے اعتراض کرنے کے لئے دوڑتے ہیں۔اور ہمیشہ بموجب آیت کریمہ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ میری کسی گردش کے منتظر ہیں اور عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ لے کے مضمون سے بے خبر۔(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۴۴۲٬۴۴۱) خدا تعالیٰ کا معاملہ ہر ایک شخص سے بقدر تعلق ہوتا ہے اور گومحبو بین الہی پر مصائب بھی پڑتی ہیں مگر نصرت الہی نمایاں طور پر ان کے شامل حال ہوتی ہے اور غیرت الہی ہرگز ہرگز گوارا نہیں کرتی کہ ان کو ذلیل اور رسوا کرے اور اس کی محبت گوارا نہیں کرتی کہ ان کا نام دنیا سے مٹاوے اور کرامات کی اصل بھی یہی ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا کا ہوجاتا ہے اور اس میں اور اس کے رب میں کوئی حجاب باقی نہیں رہتا اور وہ وفا اور صدق کے تمام ان مراتب کو پورے کر کے دکھلاتا ہے جو حجاب سوز ہیں تب وہ خدا کا اور اس کی قدرتوں کا وارث ٹھہرایا جاتا ہے اور خدا تعالی طرح طرح کے نشان اس کے لئے ظاہر کرتا ہے جو بعض بطور دفع شر ہوتے ہیں اور بعض بطور افاضہ خیر اور بعض اس کی ذات کے متعلق ہوتے ہیں اور بعض اس کے اہل وعیال کے متعلق اور بعض اس کے دشمنوں کے متعلق اور بعض اس کے دوستوں کے متعلق اور بعض اس کے اہل وطن کے متعلق اور بعض عالمگیر اور بعض زمین سے اور بعض آسمان سے۔غرض کوئی نشان ایسا نہیں ہوتا جو اس کے لئے دکھایا نہیں جاتا اور یہ مرحلہ دقت طلب نہیں اور کسی بحث کی اس جگہ ضرورت نہیں کیونکہ اگر در حقیقت کسی شخص کو یہ تیسرا درجہ نصیب ہو گیا ہے جو بیان ہو چکا ہے تو دنیا ہرگز اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ہر ایک جو اس پر گرے گاوہ پاش پاش ہو جائے گا اور جس پر وہ گرے گا اس کو ریزہ ریزہ کر دے گا کیونکہ اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ اور اس کا منہ خدا کا منہ ہے اور اس کا وہ مقام ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔جاننا چاہیے کہ معجزہ عادات الہیہ میں سے ایک ایسی عادت یا یوں کہو کہ اس قادر مطلق کے افعال میں سے ایک ایسا فعل ہے جس کو اضافی طور پر خارق عادت کہنا چاہیے۔پس امر خارق عادت کی حقیقت صرف ال التوبة: ٩٨ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۳)