حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 491 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 491

۱۱۷۳ کیونکہ خدا کا چہرہ ان سے چھپ گیا اور گذشتہ آسمانی نشان سب بطور قصوں کے ہو گئے۔سوخدا نے ارادہ کیا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بناوے۔وہ کیا ہے نیا آسمان اور کیا ہے نئی زمین ؟ نئی زمین وہ پاک دل ہیں جن کو خدا اپنے ہاتھ سے تیار کر رہا ہے جو خدا سے ظاہر ہوئے اور خدا ان سے ظاہر ہوگا۔اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اس کے بندے کے ہاتھ سے اُسی کے اذن سے ظاہر ہورہے ہیں۔لیکن افسوس کہ دنیا نے خدا کی اس نئی تجلی سے دشمنی کی۔ان کے ہاتھ میں بجو قصوں کے اور کچھ نہیں اور ان کا خدا ان کے اپنے ہی تصورات ہیں۔دل ٹیڑھے ہیں اور ہمتیں تھکی ہوئی ہیں اور آنکھوں پر پردے ہیں۔(کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 9 صفحه ۷،۶) سچ اور واقعی یہی بات ہے کہ میری کوئی ایسی پیشگوئی نہیں کہ جو پوری نہیں ہوگئی۔اگر کسی کے دل میں شک ہو تو وہ سیدھی نیت سے ہمارے پاس آجائے اور بالمواجہ کوئی اعتراض کر کے اگر شافی کافی جواب نہ سنے تو ہم ہر ایک تاوان کے سزاوار ٹھہر سکتے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ ایسے لوگ بخل سے اعتراض کرتے ہیں نہ انصاف سے۔اگر یہ لوگ انبیاء علیھم السلام کے وقتوں میں ہوتے تو ان پر بھی ایسے ہی اعتراض کرتے جو مجھ پر کرتے ہیں۔جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اس کو ہم راہ دکھلا سکتے ہیں مگر جو بخل اور خود غرضی اور تکبر سے اندھا ہو گیا ہو اس کو کیا دکھا سکتے ہیں۔تین ہزار یا اس سے بھی زیادہ اس عاجز کے الہامات کی مبارک پیشگوئیاں جو امن عامہ کے مخالف نہیں پوری ہو چکی ہیں۔صدہا نیک دل انسان گواہ ہیں۔بہت سی تحریریں پیش از وقت شائع ہو چکی ہیں۔پھر بھی اگر کوئی بخل کی راہ سے خوانخواہ شکوک اور اعتراضات پیش کرتا ہے اور سیدھے طور پر صحبت میں رہ کر تجربہ نہیں کرتا اور نہ اہل تجربہ سے دریافت کرتا ہے اور دجل اور خیانت کی راہ سے دھوکہ دینے والے اعتراضات مشہور کرتا ہے اور خیانت اور دروغگوئی سے باز نہیں آتا وہ اُن منکرین کا وارث ہے جو اس سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کے مقابل پر گذر چکے ہیں۔خدا اپنے بندوں کو ایسے منصوبہ باز لوگوں کے بہتانوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔اس بات کا کیا سبب ہے کہ یہ لوگ چوروں کی طرح دور دور سے اعتراض کرتے ہیں اور صاف باطن لوگوں کی طرح بالمقابل آکر اعتراض نہیں کرتے اور نہ جواب سننا چاہتے ہیں۔اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ اپنے دجل اور بددیانتی سے واقف ہیں اور ان کا دل ان کو ہر وقت جتلاتا ہے کہ اگر تم نے ایسے بیہودہ اور جہالت اور خیانت سے بھرے ہوئے اعتراض رو برو پیش کئے تو اس صورت میں تمہاری سخت پردہ دری ہوگی اور تمہاری دھو کہ دینے والی باتیں میکد فعہ کا لعدم ہو جائیں گی۔تب اس وقت ندامت اور خجالت اور رسوائی رہ جائے گی اور