حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 488 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 488

112۔خدا نے اپنی زندہ کلام سے بلا واسطہ مجھے یہ اطلاع دی ہے اور مجھے اس نے کہا ہے کہ اگر تیرے لئے یہ مشکل پیش آوے کہ لوگ کہیں کہ ہم کیونکر سمجھیں کہ تو خدا کی طرف سے ہے تو انہیں کہہ دے کہ اس پر یہ دلیل کافی ہے کہ اس کے آسمانی نشان میرے گواہ ہیں۔دعا ئیں قبول ہوتی ہیں۔پیش از وقت غیب کی باتیں بتلائی جاتی ہیں اور وہ اسرار جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں وہ قبل از وقت ظاہر کئے جاتے ہیں۔اور دوسرا یہ نشان ہے کہ اگر کوئی ان باتوں میں مقابلہ کرنا چاہے مثلاً کسی دعا کا قبول ہونا اور پھر پیش از وقت اس قبولیت کا علم دیئے جانایا اور غیبی واقعات معلوم ہونا جو انسان کی حد علم سے باہر ہیں تو اس مقابلہ میں وہ مغلوب رہے گا گو وہ مشرقی ہو یا مغربی۔یہ وہ دونشان ہیں جو مجھ کو دیئے گئے ہیں۔ضمیمہ رسالہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۲۹ ۳۰٫) مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائید میں ظہور میں آئے اگر ان کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا جو اس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو۔تاہم اس زمین پر کیسے کیسے گناہ ہور ہے ہیں کہ ان نشانوں کی بھی لوگ تکذیب کر رہے ہیں۔آسمان نے بھی میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔( اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۰۸) میں زور سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی عیسائی میری صحبت میں رہے تو ابھی برس نہیں گزرے گا کہ وہ کئی نشان دیکھے گا۔خدا کے نشانوں کی اس جگہ بارش ہو رہی ہے۔اور وہ خدا جس کولوگوں نے بھلا دیا اور اس کی جگہ مخلوق کو دی وہ اس وقت اس عاجز کے دل پر تجلی کر رہا ہے۔وہ دکھانا چاہتا ہے۔کیا کوئی دیکھنے کے لئے راغب ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه (۱۰۸) اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہیں دونگا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرا جواب یہ ہوگا کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال