حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 479
میں نے حضرت شیخ الکل صاحب اور ان کے شاگردوں کی زبان درازیوں پر بہت صبر کیا اور ستایا گیا اور آپ کو روکتا رہا۔اب میں مامور ہونے کی وجہ سے اس دعوت الی اللہ کی طرف شیخ الکل صاحب اور ان کی جماعت کو بلاتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس نزاع کا آپ فیصلہ کر دے گا۔وہ دلوں کے خیالات کو جانچتا اور سینوں کے حالات کو پرکھتا ہے اور کسی سے دل آزار زیادتی اور جہر بالشو ء پسند نہیں کرتا۔وہ لا پرواہ ہے۔متقی وہی ہے جو اس سے ڈرے اور میری اس میں کیا کسر شان ہے کہ اگر کوئی مجھے کتا کہے یا کافر کافر اور دجال کر کے پکارے۔درحقیقت حقیقی طور پر انسان کی کیا عزت ہے صرف اس کے نور کے پر توہ کے پڑنے سے عزت حاصل ہوتی ہے۔اگر وہ مجھ پر راضی نہیں اور میں اس کی نگاہ میں بُرا ہوں تو پھر کتے کی طرح کیا ہزار درجہ کتوں سے بدتر ہوں۔گر خدا از بنده خوشنود نیست بیچ حیوانی چو او مردود نیست ! گر سگ نفس دنی را پروریم اے خدا اے طالبان را رہنما ایکہ مہر تو حیات روح ما ۳ از سگان کوچہ ہا ہم کمتریم سے 2 بر رضائے خویش گن انجام ما تا برآید در دو عالم کام ما خلق و عالم جمله در شور و شراند طالبانت مقام در دیگراند بگل دم آں یکے را نور بخشی بدل واں دگر را میگذاری پا و گوش و دل ز تو گیرد ضیاء ذات تو سرچشمہ فیض و بدی کے غرض خدا وند قا در قدوس میری پناہ ہے اور میں تمام کام اپنا اسی کو سونپتا ہوں اور گالیوں کے عوض میں گالیاں دینا نہیں چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ایک ہی ہے جو کہے گا۔افسوس کہ ان لوگوں نے لے اگر خدا بندہ سے خوش نہیں ہے تو اس جیسا کوئی حیوان بھی مردود نہیں۔سے اگر ہم اپنے ذلیل نفس کو پالنے میں لگے رہیں تو ہم گلیوں کے کتوں سے بھی بدتر ہیں۔اے خدا۔اے طالبوں کے رہنما۔اے وہ کہ تیری محبت ہماری روح کی زندگی ہے۔تو ہمارا خاتمہ اپنی رضا پر کر کہ دونوں جہان میں ہماری مراد پوری ہو۔دنیا اور اس کے لوگ سب شور و شر میں مصروف ہیں۔مگر تیرے طالب اور ہی مقام پر ہیں۔ان میں سے ایک کے دل کو تو نور بخشتا ہے اور دوسرے کو کیچڑ میں پھنسا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔کے آنکھ ، کان اور دل تجھ سے ہی روشنی حاصل کرتے ہیں۔تیری ذات ہدایت اور فیض کا سر چشمہ ہے۔