حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 44
سے ہی ہوتا ہے اور اسی بات کو دلائل عقلیہ بھی چاہتے ہیں۔کیونکہ متواتر تجربہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کے روحانی قومی بغیر جسم کے جوڑ کے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہوتے۔( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۷۰-۷۱) جاننا چاہئے کہ عالم آخرت در حقیقت دنیوی عالم کا ایک عکس ہے اور جو کچھ دنیا میں روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔وہ عالم آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اغلی ا یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اُس جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا۔ہمیں اس تمنلی وجود سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے اور ذرا سوچنا چاہئے کہ کیونکر روحانی امور عالم رؤیا میں متمثل ہو کر نظر آ جاتے ہیں اور عالم کشف تو اس سے بھی عجیب تر ہے کہ وجود عدم غیبت حس اور بیداری کے روحانی امور طرح طرح کے جسمانی اشکال میں انہیں آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ بسا اوقات عین بیداری میں اُن روحوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اس دنیا سے گذر چکے ہیں اور وہ اسی دنیوی زندگی کے طور پر اپنے اصلی جسم میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات اُن میں سے مقدس لوگ بازنہ تعالی آئندہ کی خبریں دیتے ہیں اور وہ خبریں مطابق واقعہ نکلتی ہیں۔بسا اوقات عین بیداری میں ایک شربت یا کسی قسم کا میوہ عالم کشف سے ہاتھ میں آتا ہے اور وہ کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے۔اور ان سب امور میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے۔کشف کی اعلیٰ قسموں میں سے یہ ایک قسم ہے کہ بالکل بیداری میں واقع ہوتی ہے۔اور یہاں تک اپنے ذاتی تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ ایک شیریں طعام یا کسی قسم کا میوہ یا شربت غیب سے نظر کے سامنے آ گیا ہے اور وہ ایک غیبی ہاتھ سے منہ میں پڑتا جاتا ہے اور زبان کی قوت ذائقہ اس کے لذیذ طعم سے لذت اٹھاتی جاتی ہے اور دوسرے لوگوں سے باتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حواس ظاہری بخوبی اپنا اپنا کام دے رہے ہیں۔اور یہ شربت یا میوہ بھی کھایا جا رہا ہے اور اس کی لذت اور حلاوت بھی ایسی ہی کھلی کھلی طور پر معلوم ہوتی ہے بلکہ وہ لذت اس لذت سے نہایت الطف ہوتی ہے اور یہ ہرگز نہیں کہ وہ وہم ہوتا ہے یا صرف بے بنیاد تخیلات ہوتے ہیں بلکہ واقعی طور پر وہ خدا جس کی شان بِكُلّ خَلْقٍ علیم ہے ایک قسم کے خلق کا تماشا دکھا دیتا ہے۔پس جبکہ اس قسم کے خلق اور پیدائش کا دنیا میں ہی نمونہ ا بنی اسرآئیل ۷۳