حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 466
۱۱۴۸ مہربانی مجھ کو مختصر جواب دیں کہ کیا وہ نشانیاں آپ صاحبوں کے گروہ میں یا بعض ایسے صاحبوں میں جو بڑے بڑے مقدس اور اس گروہ کے سردار اور پیشوا اور اول درجہ پر ہیں پائی جاتی ہیں۔اگر پائی جاتی ہیں تو ان کا ثبوت عنایت ہو اور اگر نہیں پائی جاتیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس چیز کی صحت اور درستی کی نشانی نہ پائی جائے تو کیا وہ چیز اپنے اصل پر محفوظ اور قائم کبھی جائے گی۔مثلاً اگر تر بد یا ستمو نیا یاساء میں خاصہ اسہال کا نہ پایا جائے کہ وہ دست آور ثابت نہ ہو تو کیا اس تربد کو تر بد موصوف یا سقمونیا خالص کہہ سکتے ہیں اور ماسوا اس کے جو آپ صاحبوں نے طریق نجات شمار کیا ہے جس وقت ہم اس طریق کو اس دوسرے طریق کے ساتھ جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے مقابل کر کے دیکھتے ہیں تو صاف طور پر آپ کے طریق کا تصنع اور غیر طبعی ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ بات بپایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ آپ کے طریق میں کوئی صحیح راہ نجات کا قائم نہیں کیا گیا۔مثلاً دیکھئے کہ اللہ جلشانہ قرآن کریم میں جو طریق پیش کرتا ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان جب اپنے تمام وجود کو اور اپنی تمام زندگی کو خدا تعالیٰ کے راہ میں وقف کر دیتا ہے تو اس صورت میں ایک سچی اور پاک قربانی اپنے نفس کے قربان کرنے سے وہ ادا کر چکتا ہے اور اس لائق ہو جاتا ہے کہ موت کے عوض میں حیات پاوے۔اب مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کے نزدیک یہ طریق نجات کا جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے صحیح نہیں ہے تو اول آپ کو چاہیے کہ اس طریق کے مقابل پر جو حضرت مسیح کی زبان سے ثابت ہوتا ہے اس کو ایسا ہی مدلل اور معقول طور پر ان کی تقریر کے حوالہ سے پیش کریں پھر بعد اس کے انہیں کے قول مبارک سے اس کی نشانیاں بھی پیش کریں تا کہ تمام حاضرین جو اس وقت موجود ہیں ،ابھی فیصلہ کر لیں۔ڈپٹی صاحب! کوئی حقیقت بغیر نشانوں کے ثابت نہیں ہو سکتی۔دنیا میں بھی ایک معیار حقائق شناسی کا ہے کہ اُن کو ان کی نشانیوں سے پرکھا جائے۔سو ہم نے تو وہ نشانیاں پیش کر دیں اور ان کا دعوی بھی اپنی نسبت پیش کر دیا۔اب یہ قرضہ ہمارا آپ کے ذمہ ہے۔اگر آپ پیش نہیں کریں گے اور ثابت کر کے نہیں دکھلائیں گے کہ یہ طریق نجات جو حضرت مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کس وجہ سے سچا اور صحیح اور کامل ہے تو اس وقت تک آپ کا یہ دعویٰ ہرگز صحیح نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ صحیح اور سچا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے صرف بیان ہی نہیں کیا بلکہ کر کے بھی دکھا دیا اور اس کا ثبوت میں پیش کر چکا ہوں۔آپ براہ مہربانی اب اس نجات کے قصہ کو بے دلیل اور بے وجہ صرف دعویٰ کے طور پر پیش نہ کریں۔کوئی صاحب آپ میں سے کھڑے ہو کر اس وقت بولیں کہ میں بموجب فرمودہ