حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 462
۱۱۴۴ ہاتھ سے کوشش کر رہے ہیں کہ حق ظاہر نہ ہو۔میں نے خدا تعالیٰ سے سچا اور پاک الہام پا کر یقینی اور قطعی طور پر جیسا کہ آفتاب نظر آتا ہے معلوم کر لیا ہے کہ آپ نے میعاد پیشگوئی کے اندر اسلامی عظمت اور صداقت کا سخت اثر اپنے دل پر ڈالا اور اسی بناء پر پیشگوئی کے وقوع کا ہم و غم کمال درجہ پر آپ کے دل پر غالب ہوا۔میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل صحیح ہے اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مجھ کو یہ اطلاع ملی ہے اور اس پاک ذات نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ جو انسان کے دل کے تصورات کو جانتا اور اسکے پوشیدہ خیالات کو دیکھتا ہے اور اگر میں اس بیان میں حق پر نہیں تو خدا مجھ کو آپ سے پہلے موت دے۔پس اسی وجہ سے میں نے چاہا کہ آپ مجلس عام میں قسم غلیظ مؤکد بعذ اب موت کھاویں ایسے طریق سے جو میں بیان کر چکا ہوں تا میرا اور آپ کا فیصلہ ہو جائے اور دنیا تاریکی میں نہ رہے اور اگر آپ چاہیں گے تو میں بھی ایک برس یا دو برس یا تین برس کیلئے قسم کھالوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ سچا ہرگز برباد نہیں ہوسکتا بلکہ وہی ہلاک ہو گا جس کو جھوٹ نے پہلے سے ہلاک کر دیا ہے۔اگر صدق الہام اور صدق اسلام پر مجھے قسم دی جائے تو میں آپ سے ایک پیسہ نہیں لیتا لیکن آپ کی قسم کھانے کے وقت تین ہزار کے بدرے پہلے پیش کئے جائیں گے۔تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ ۱۵۸۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۴۳۰ ، ۴۳۱ بار دوم ) یہ بوجھ آتھم صاحب کی گردن پر ہے کہ اپنے اقرار کو بے ثبوت نہ چھوڑیں بلکہ قسم کے طریق سے جو سہل طریق ہے اور جو ہمارے نزدیک قطعی اور یقینی ہے ہمیں مطمئن کر دیں کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرے بلکہ وہ فی الحقیقت ہمیں ایک خونی انسان یقین کرتے اور ہماری تلواروں کی چمک دیکھتے تھے اور ہم انہیں کچھ بھی تکلیف نہیں دیتے بلکہ اس قسم پر چار ہزار روپیہ بشرائط اشتہار ۹ ستمبر ۱۸۹۴ء و ۲۰ ستمبر ۱۸۹۴ ء ان کی نذر کریں گے اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا یہ عذر کہ مسیحیوں کو قسم کھانے کی ممانعت ہے۔سخت ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے کیا پطرس اور پولس اور بہت سے عیسائی راستباز جو اوّل زمانہ میں گذر چکے مسیحی نہیں تھے یا وہ بے ایمان تھے۔اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر تم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔جس نے حق کا اخفاء کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا۔تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ ۱۷۵ تا ۱۷۷۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۴۴۲ تا ۴۴۵ بار دوم )