حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 41
۷۲۳ بعث بعد الموت شیطان کے وساوس بہت ہیں اور سب سے زیادہ خطرناک وسوسہ اور شبہ جو انسانی دل میں پیدا کر کے ا خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَة کر دیتا ہے آخرت کے متعلق ہے کیونکہ تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا بڑا بھاری ذریعہ منجملہ دیگر اسباب اور وسائل کے آخرت پر ایمان بھی ہے اور جب انسان آخرت اور اس کی باتوں کو قصہ اور داستان سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ رڈ ہو گیا اور دونوں جہانوں سے گیا گذرا ہوا۔اس لئے کہ آخرت کا ڈر بھی تو انسان کو خائف اور ترساں بنا کر اس کو معرفت کے نیچے چشمہ کی طرف کشاں کشاں لے آتا ہے اور کچی معرفت بغیر حقیقی خشیت اور خدا ترسی کے حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔پس یاد رکھو! کہ آخرت کے متعلق وساوس کا پیدا ہونا ایمان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے اور خاتمہ بالخیر میں فتور آجاتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۶۴ - ملفوظات جلد اول صفحه ۳۴۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) واضح رہے کہ قرآنی تعلیم کی رو سے تین عالم ثابت ہوتے ہیں۔اول یہ کہ دنیا جس کا نام عالم کسب اور نشاء اولی ہے۔اسی دنیا میں انسان اکتساب نیکی کا یا بدی کا کرتا ہے اور اگر چہ عالم بعث میں نیکیوں کے واسطے ترقیات ہیں مگر وہ محض خدا کے فضل سے ہیں۔انسان کے کسب کو اُن میں دخل نہیں۔(۲) اور دوسرے عالم کا نام برزخ ہے۔اصل میں لفظ برزخ لغت عرب میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزوں کے درمیان واقع ہو۔سو چونکہ یہ زمانہ عالم بحث اور عالم نشاء اولی میں واقع ہے اس لئے اس کا نام برزخ ہے لیکن یہ لفظ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا کی بنا پڑی عالم درمیانی پر بولا گیا ہے اس لئے اس لفظ میں عالم درمیانی کے وجود پر ایک عظیم الشان شہادت مخفی ہے۔برزخ کی حالت وہ حالت ہے کہ جب یہ نا پائیدار ترکیب انسانی تفرق پذیر ہو جاتی ہے اور روح الگ اور جسم الگ ہو جاتا ہے۔۔گوموت کے بعد یہ فانی جسم روح سے الگ ہو جاتا ہے مگر عالم برزخ میں مستعار طور پر ہر ایک روح کو کسی قدر اپنے اعمال کا مزہ چکھنے کے لئے جسم ملتا ہے۔وہ جسم اس جسم کی قسم میں سے نہیں ہوتا بلکہ ایک نور سے یا ایک تاریکی سے جیسا کہ اعمال کی صورت ہو جسم تیار ہوتا ہے گویا کہ اس عالم میں انسان کی عملی حالتیں جسم کا کام دیتی ہیں۔ایسا ہی خدا کے کلام میں بار بار