حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 439

۱۱۲۱ آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب ہوگا اور اگر آپ آویں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دوسو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ دیا جائے گا۔اس دوسو روپیہ ماہوار کو آپ اپنے شایانِ شان نہ سمجھیں تو اپنے حرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے ہم اس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔طالبانِ ہرجانہ یا جرمانہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ تشریف آوری سے پہلے بذریعہ رجسٹری ہم سے اجازت طلب کر یں اور جو لوگ ہر جانہ یا جرمانہ کے طالب نہیں ان کو اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔اگر آپ بذات خود تشریف نہ لا سکیں تو آپ اپنا وکیل جس کے مشاہدہ کو آپ معتبر اور اپنا مشاہدہ سمجھیں روانہ فرما دیں مگر اس شرط سے کہ بعد مشاہدہ اس شخص کے آپ اظہار اسلام یا ( تصدیق خوارق میں ) توقف نہ فرما ئیں۔آپ اپنی شرط اظہار اسلام یا ( تصدیق خوارق ) ایک سادہ کاغذ پر جس پر چند ثقات مختلف مذاہب کی شہادتیں ہوں تحریر کر دیں جس کو متعدد اردو انگریزی اخباروں میں شائع کیا جائے گا۔ہم سے اپنی شرط دوسو روپیہ ماہوار جرمانہ یا حرجانہ (یا جو آپ پسند کریں اور ہم اس کی ادائیگی کی طاقت بھی رکھیں ) عدالت میں رجسٹری کرالیں اور اس کے ساتھ ایک حصہ جائداد بھی بقدر شرط رجسٹری کرالیں۔تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۱۱ تا ۱۳۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۲۵، ۲۶ بار دوم ) میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں یہ اشتہا را اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہیں اتماماً للحجة شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے کی ہیں اپنی الہامی کتاب میں ثابت کر کے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے یا ثلث ان سے یا ربع ان سے یا شمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار توڑ دے تو ان سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالا تفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفائے شرط جیسا کہ چاہیئے تھا ظہور میں آ گیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے و حیلے اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دیدوں گا۔مگر واضح رہے کہ اگر اپنی کتاب کی دلائل معقولہ پیش کرنے سے عاجز اور قاصر رہیں یا بر طبق شرط اشتہار کی شمس تک پیش نہ کر سکیں