حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 434

١١١٦ مجہتد بدگوئی اور تکفیر سے باز نہ آویں اور اس عاجز کی صداقت کو قبول نہ کریں اور مقابلہ سے روپوش رہیں تو دیکھو کہ میں خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ خدا انہیں رسوا کرے گا۔تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۶۳ تا ۶۵ - مجموعه اشتہارات جلد اوّل صفحه ۳۵۸،۳۵۷ بار دوم ) اے حاضرین اس وقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالی کی طرف توجہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلا سکیں جو میں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کریں اور جو تاوان چاہیں میرے پر لگا دیں۔دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۲۴) مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آپ لوگ اپنے دلوں کو صاف کر کے کوئی اور نشان خدا کا دیکھنا چاہیں تو وہ خدا وند قدیر بغیر اس کے کہ آپ لوگوں کے کسی اقتراح کا تابع ہو اپنی مرضی اور اختیا ر سے نشان دکھلانے پر قادر ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ لوگ سچے دل سے تو بہ کی نیت کر کے مجھ سے مطالبہ کریں اور خدا کے سامنے یہ عہد کر لیں کہ اگر کوئی فوق العادت امرجو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے ظہور میں آ جائے تو ہم یہ تمام بغض اور شھنا چھوڑ کر محض خدا کو راضی کرنے کے لئے سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں گے تو ضرور خدا تعالیٰ کوئی نشان دکھائے گا کیونکہ وہ رحیم وکریم ہے لیکن میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں نشان دکھلانے کے لئے دو تین دن مقرر کر دوں یا آپ لوگوں کی مرضی پر چلوں۔یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جو چاہے تاریخ مقرر کرے اور اس طریق میں یہ ضروری ہوگا کہ کم سے کم چالیس نامی مولوی جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی ثم امرتسری اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور مولوی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑی ایک تحریری اقرار نامه به ثبت شہادت پچاس معزز مسلمانان کے اخبار کے ذریعہ سے شائع کر دیں کہ اگر ایسا نشان جو درحقیقت فوق العادت ہو۔ظاہر ہو گیا تو ہم حضرت ذوالجلال سے ڈر کر مخالفت چھوڑ دیں گے اور بیعت میں داخل ہو جائیں گے اور اگر یہ طریق آپ کو منظور نہ ہو۔تو ایک اور سہل طریق ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی سہل طریق نہیں۔اور وہ یہ کہ آپ لوگ محض خدا تعالیٰ سے خوف کر کے اور اس امت محمدیہ پر