حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 435
رحم فرما کر بٹالہ یا امرتسر یا لاہور میں ایک جلسہ کریں اس جلسہ میں جہاں تک ممکن ہو اور جس قدر ہو سکے معزز علماء اور دنیا دار جمع ہوں اور میں بھی اپنی جماعت کے ساتھ حاضر ہو جاؤں تب وہ سب یہ دعا کریں کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ یہ شخص مفتری ہے اور تیری طرف سے نہیں ہے اور نہ مسیح موعود ہے اور نہ مہدی ہے تو اس فتنہ کو مسلمانوں میں سے دور کر اور اس کے شر سے اسلام اور اہل اسلام کو بچالے۔جس طرح تو نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو دنیا سے اٹھا کر مسلمانوں کو ان کے شر سے بچالیا اور اگر یہ تیری طرف سے ہے اور ہماری ہی عقلوں اور فہموں کا قصور ہے تو اے قادر ہمیں سمجھ عطا فرما۔تا ہم ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کی تائید میں کوئی ایسے امور اور نشان ظاہر فرما کہ ہماری طبیعتیں قبول کر جائیں کہ یہ تیری طرف سے ہے اور جب یہ تمام دعا ہو چکے تو میں اور میری جماعت بلند آواز سے آمین کہیں اور پھر بعد اس کے میں دعا کروں گا اور اس وقت میرے ہاتھ میں وہ تمام الہامات ہوں گے جو ابھی لکھے گئے ہیں۔۔۔۔۔اوردعا کا یہ مضمون ہوگا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو اس رسالہ میں درج ہیں جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے جن کی رُو سے میں اپنے تئیں مسیح موعود اور مہدی معہود سمجھتا ہوں اور حضرت مسیح کو فوت شدہ قرار دیتا ہوں تیرا کلام نہیں ہے اور میں تیرے نزدیک کاذب اور مفتری اور دجال ہوں جس نے امت محمدیہ میں فتنہ ڈالا ہے اور تیرا غضب میرے پر ہے تو میں تیری جناب میں تضرع سے دعا کرتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے ایک سال کے اندر زندوں میں سے میرا نام کاٹ ڈال اور میرا تمام کاروبار درہم برہم کر دے اور دنیا میں سے میرا نشان مٹا ڈال اور اگر میں تیری طرف سے ہوں اور یہ الہامات جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہیں تیری طرف سے ہیں اور میں تیرے فضل کا مورد ہوں۔تو اے قادر کریم اسی آئندہ سال میں میری جماعت کو ایک فوق العادت ترقی دے اور فوق العادت برکات شامل حال فرما اور میری عمر میں برکت بخش اور آسمانی تائیدات نازل کر اور جب یہ دعا ہو چکے تو تمام مخالف جو حاضر ہوں آمین کہیں۔اور مناسب ہے کہ اس دعا کے لئے تمام صاحبان اپنے دلوں کو صاف کر کے آویں۔کوئی نفسانی جوش وغضب نہ ہو اور ہار وجیت کا معاملہ نہ سمجھیں اور نہ اس دعا کو مباہلہ قرار دیں کیونکہ اس دعا کا نفع نقصان گل میری ذات تک محدود ہے۔اور کوشش کریں کہ حضور دل سے دعا ئیں ہوں اور گریہ و بکا کے ساتھ ہوں۔خدا مخلصین کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔پس اگر یہ کاروبار اس کی طرف سے نہیں ہیں اور انسانی افتراء اور بناوٹ ہے تو امت مرحومہ کی دعا جلد عرش تک پہنچے گیا ور اگر میرا سلسلہ آسمانی ہے اور