حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 424
11۔7 وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنا رکھا تھا کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ مباحثہ مد کا اس میں ذکر ہے۔پس اگر میں نے پہلے بنایا تھا تب تو انہیں ماننا چاہیئے کہ میں عالم الغیب ہوں۔بہر صورت یہ بھی ایک نشان ہوا۔اس لئے اب ان کو کسی طرف فرار کی راہ نہیں اور آج وہ الہام پورا ہوا جو خدا نے فرمایا تھا قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۵ تا ۱۴۸) کیا یہ خدا تعالے کا نشان نہیں کہ وہی شخص جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ جاہل ہے اور ایک صیغہ تک اس کو معلوم نہیں وہ ان تمام مکفروں کو جو اپنا نام مولوی رکھتے ہیں بلند آواز سے کہتا ہے کہ میری تفسیر کے مقابل پر تفسیر بناؤ تو ہزار روپے انعام لو اور نور الحق کے مقابل پر بناؤ تو پانچ ہزار روپیہ پہلے رکھا لو اور کوئی مولوی دم نہیں مارتا۔خیال کرنا چاہیے کہ ہم نے کس قدر تاکید سے اُن کو میدان میں بلایا اور کن کن الفاظ سے اُن کو غیرت دلانا چاہا مگر انہوں نے اس طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ہم نے صرف اس خیال سے کہ شیخ صاحب کی عربی دانی کا دعوی بھی فیصلہ پا جائے۔رسالہ نورالحق میں یہ اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب عرصہ تین ماہ میں اسی قدر کتاب تحریر کر کے شائع کر دیں اور وہ کتاب در حقیقت جميع لوازم بلاغت و فصاحت والتزام حق اور حکمت میں نورالحق کے ثانی ہو تو تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام شیخ صاحب کو دیا جائے گا اور نیز الہام کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے بھی ایک سہل اور صاف راستہ ان کومل جائے گا اور ہزار لعنت کے داغ سے بھی بچ جائیں گے ورنہ وہ نہ صرف مغلوب بلکہ الہام کے مصدق ٹھہریں گے مگر شیخ صاحب نے ان باتوں میں سے کسی کی بھی پرواہ نہ کی اور کچھ بھی غیرت مندی نہ دکھلائی۔اس کا کیا سبب تھا؟ بس یہی کہ یہ مقابلہ شیخ صاحب کی طاقت سے باہر ہے۔۔۔۔۔۔۔خدا تعالی نے چاہا کہ اس متکبر کا غرور توڑے اور اس گردن کش کی گردن کو مروڑے اور اس کو دکھلاوے کہ کیونکر وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے سو اس کی توفیق اور مدد اور خاص اس کی تعلیم اور تفہیم سے یہ کتابیں تالیف ہوئیں اور ہم نے کرامات الصادقین اور نورالحق کے لئے آخری تاریخ درخواست مقابلہ کی اس مولوی اور تمام مخالفوں کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ء مقرر کی تھی جو گذرگئی۔سرالخلافہ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۰) اگر حضرت سید مولوی محمد نذیر حسین صاحب یا جناب مولوی ابومحمد عبد الحق صاحب مسئلہ وفات مسیح میں