حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 422

۱۱۰۴ نا واقف کہا کرتے ہیں کہ عربوں کو ہزار ہا روپے کے نوٹ دے کر کتا ہیں لکھائی جاتی ہیں۔اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے جو ایسی فصیح بلیغ کتاب اور ایسے حقائق ومعارف سے پر لکھ سکتا ہے جو کتا ہیں یہ ادب وانشاء کا دعوی کر نے والے لکھتے ہیں ان کی مثال پتھروں کی سی ہے کہ سخت ، نرم ، سیاہ ، سفید پتھر جمع کر کے رکھے جائیں مگر یہ تو ایک لذیذ اور شیریں چیز ہے جس میں حقائق اور معارف قرآنی کے اجزاء ترکیب دیئے گئے ہیں۔غرض جو بات رُوح القدس کی تائید سے لکھی جاوے اور جو الفاظ اس کے القاء سے آتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک حلاوت رکھتے ہیں اور اس حلاوت میں ملی ہوئی شوکت اور قوت ہوتی ہے جو دوسروں کو اس پر قادر نہیں ہونے دیتی۔یہ غرض بہت بڑا نشان ہوگا۔(الحکم، مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۵ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد اول صفحه ۵۶۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یادر ہے کہ اگر چہ میں اب تک عربی میں سترہ کے قریب بے مثل کتابیں شائع کر چکا ہوں جن کے مقابل میں اس دس برس کے عرصہ میں ایک کتاب بھی مخالفوں نے شائع نہیں کی مگر آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ وہ کتا بیں صرف عربی فصیح و بلیغ میں ہی نہیں بلکہ ان میں بہت سے قرآنی حقائق معارف ہیں۔اس لئے ممکن ہے کہ وہ لوگ یہ جواب دیں کہ ہم حقائق معارف سے نا آشنا ہیں اگر صرف عربی فصیح میں نظم ہوتی۔جیسے عام قصائد ہوتے ہیں تو ہم بلاشبہ اس کی نظیر بناسکتے اور نیز یہ بھی خیال آیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے اگر صرف کتاب اعجاز مسیح کی نظیر طلب کی جائے تو وہ ضرور اس میں کہیں گے کہ کیونکر ثابت ہو کہ ستر دن کے اندر یہ کتاب تالیف کی گئی ہے اور اگر وہ حجت پیش کریں کہ یہ کتاب دو برس میں بنائی گئی ہے اور ہمیں بھی دو برس کی مہلت ملے تو مشکل ہوگا کہ ہم صفائی سے ان کو ستر دن کا ثبوت دے سکیں۔ان وجوہات سے مناسب سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک سادہ قصیدہ بنانے کے لئے رُوح القدس سے مجھے تائید فرما دے جس میں مباحثہ مد کا ذکر ہوتا اس بات کے سمجھنے کے لئے دقت نہ ہو کہ وہ قصیدہ کتنے دن میں طیار کیا گیا ہے۔سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہوگئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور قصیدہ پانچ دن میں ہی میں نے ختم کر لیا۔کاش اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن میں ہی ختم ہو جاتا۔کاش اگر چھپنے میں کسی قدر دیر نہ لگتی تو 9 نومبر ۱۹۰۲ء تک وہ قصیدہ شائع ہوسکتا تھا۔یہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے گواہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں کیونکہ قصیدہ سے خود ثابت ہے کہ یہ ان کے مباحثہ کے بعد بنایا گیا ہے اور مباحثہ ۲۹ اور ۳۰ / اکتو بر ۱۹۰۲ء کو ہوا تھا اور ہمارے