حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 421
١١٠٣ اور کوئی ذہن ان کی طرف سبقت نہیں لے گیا۔ان کو قرآن شریف بکمال صحت و راستی بیان اور ظاہر فرماتا ہے اور ان دقائق علیم الہی کو جو صد ہا دفتروں اور طول طویل کتابوں میں لکھے گئے تھے اور پھر بھی ناقص اور نا تمام تھے باستیفا تمام لکھتا ہے اور آئندہ کسی عاقل کے لئے کسی نئے دقیقہ کے پیدا کرنے کی جگہ نہیں چھوڑتا حالانکہ وہ اس قدر قليل الحجم کتاب ہے کہ جو بتحر یرمیا نہ چالیس ورق سے زیادہ نہیں۔اب ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی وجہ بے نظیری ہے جس کی صداقت میں ایک ادنی عقل کے آدمی کو بھی شک نہیں رہ سکتا کیونکہ ہر یک عقل سلیم پر روشن ہے کہ ہر یک نوع کی دینی سچائیاں اور الہیات کے تمام حقائق اور معارف اور اصول حقہ کے جمیع دلائل اور وسائل اور تمام اولین آخرین کا مغز ایک قلیل المقدار کتاب میں اس احاطہ تام سے درج کرنا جس کے مقابلہ پر کسی ایسی صداقت کا نشان نہ مل سکے کہ جو اس سے باہر رہ گئی ہو یہ انسان کا کام نہیں اور کسی مخلوق کی حد قدرت میں داخل نہیں اور اس کے آزمانے کے لئے بھی ہر یک خواندہ اور ناخواندہ پر صاف اور سیدھا راستہ کھلا ہے کیونکہ اگر اس امر میں شک ہو کہ قرآن شریف کیونکہ تمام حقائق الہیات پر حاوی ہے تو اس بات کا ہم ہی ذمہ اُٹھاتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب طالب حق بن کر یعنی اسلام قبول کرنے کا تحریری وعدہ کر کے کسی کتاب عبرانی، یونانی، لاطینی، انگریزی، سنسکرت وغیرہ سے کسی قدر دینی صداقتیں نکال کر پیش کریں یا اپنی ہی عقل کے زور سے کوئی الہیات کا نہایت بار یک دقیقہ پیدا کر کے دکھلاویں تو ہم اس کو قرآن شریف میں سے نکال دیں گے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۴۷ تا ۲۷۷) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی مولوی اس ملک کے تمام مولویوں میں سے معارف قرآنی میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہے اور کسی سورت کی ایک تفسیر میں لکھوں اور ایک کوئی اور مخالف لکھے تو وہ نہایت ذلیل ہوگا اور مقابلہ نہیں کر سکے گا اور یہی وجہ ہے کہ باوجود اصرار کے مولویوں نے اس طرف رُخ نہیں کیا۔پس یہ ایک عظیم الشان نشان ہے مگر اُن کے لئے جو انصاف اور ایمان رکھتے ہیں۔ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا اصفحہ ۲۹۳،۲۹۲) میں عربوں کے دعوئی ادب و فصاحت و بلاغت کو بالکل تو ڑنا چاہتا ہوں یہ لوگ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے آپ کو اہل زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں اُن کے قلم توڑ دیئے جاویں گے اور اگر ان میں کچھ طاقت ہے اور قوت ہے تو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ