حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 420
١١٠٢ جنہوں نے دلی صدق سے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی کہ قرآن کی بے نظیری کو کسی صاحب علم سے معلوم کریں بلکہ فرقانی نوروں کو دیکھ کر دوسری طرف منہ پھیر لیتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ کسی قدر پر تو ہ اس نور کا ان پر پڑ جائے ورنہ قرآن شریف کی بے نظیری حق کے طالبوں کے لئے ایسی ظاہر اور روشن ہے کہ جو آفتاب کی طرح اپنی شعاعوں کو ہر طرف پھیلا رہی ہے۔جس کے سمجھنے اور جاننے کے لئے کوئی دقت اور اشتباہ نہیں اور اگر تعصب اور عناد کی تاریکی درمیان میں نہ ہو تو وہ کامل روشنی ادنی التفات سے معلوم ہوسکتی ہے۔یہ سچ ہے کہ فرقان مجید کی بے نظیری کی بعض وجوہ ایسی ہیں کہ ان کے جاننے کے لئے کسی قدر علم عربی درکار ہے۔مگر یہ بڑی غلطی اور جہالت ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ اعجاز قرآن کی تمام وجوه عربی دانی پر ہی موقوف ہیں یا تمام عجائبات قرآنیہ اور جمیع خواص عظمی فرقانیہ صرف عربوں پر ہی کھل سکتے ہیں اور دوسرں کے لئے تمام راہیں ان کے دریافت کرنے کی مسدود ہیں۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔یہ بات ہر ایک اہل علم پر واضح ہے کہ اکثر وجوہ بے نظیری فرقان کی ایسی سہل اور سریع الفہم ہیں کہ جن کے جاننے اور معلوم کرنے کے لئے کچھ بھی لیاقت عربی در کار نہیں بلکہ اس درجہ پر بد یہی اور واضح ہیں کہ ادنی عقل جو انسانیت کے لئے ضروری ہے ان کے سمجھنے کے لئے کفایت کرتی ہے۔مثلاً ایک یہ وجہ بے نظیری کہ وہ با وجود اس قدر ایجاز کلام کے کہ اگر اس کو متوسط قلم سے لکھیں تو پانچ چار جز میں آسکتا ہے۔پھر تمام دینی صداقتوں پر کہ جو بطور متفرق پہلی کتابوں میں اور انبیائے سلف کے صحیفوں میں پراگندہ اور منتشر تھیں مشتمل ہے اور نیز اس میں یہ کمال ہے کہ جس قدر انسان محنت اور کوشش اور جانفشانی کر کے علم دین کے متعلق اپنے فکر اور ادراک سے کچھ صداقتیں نکالے یا کوئی بار یک دقیقہ پیدا کرے یا اسی علم کے متعلق کسی قسم کے اور حقائق اور معارف یا کسی نوع کے دلائل اور براہین اپنی قوت عقلیہ سے پیدا کر کے دکھلا دے یا ایسا ہی کوئی نہایت دقیق صداقت جس کو حکمائے سابقین نے مدت دراز کی محنت اور جانفشانی سے نکالا ہو معرض مقابلہ میں لاوے یا جس قدر مفاسد باطنی اور امراض روحانی ہیں جن میں اکثر افراد مبتلا ہوتے ہیں ان میں سے کسی کا ذکر یا علاج قرآن شریف سے دریافت کرنا چاہے تو وہ جس طور سے اور جس باب میں آزمائش کرنا چاہتا ہے آزما کر دیکھ لے کہ ہر یک دینی صداقت اور حکمت کے بیان میں قرآن شریف ایک دائرہ کی طرح محیط ہے جس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں بلکہ جن صداقتوں کو حکیموں نے باعث نقصانِ علم و عقل غلط طور پر بیان کیا ہے قرآن شریف ان کی تکمیل و اصلاح فرماتا ہے اور جن دقائق کا بیان کرنا کسی حکیم و فلاسفر کو میسر نہیں آیا