حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 416
1۔97 پیش کرے جن میں قبولیت دعا کی بشارت ہو اور وہ دعا فوق الطاقت ہو۔ایسا ہی میں بھی پیش کروں اور چند امور غیبیہ جو آنے والے زمانہ سے متعلق ہیں وہ قبل از وقت ظاہر کرے اور ایسا ہی میں بھی ظاہر کروں اور دونوں فریق کے یہ بیان اشتہارات کے ذریعہ سے شائع ہو جائیں۔تب ہر ایک کا صدق و کذب کھل جائے گا مگر یاد رکھنا چاہئیے کہ ہر گز ایسا نہیں کر سکیں گے۔مکذبین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔خدا اُن کو نہ قرآن کا نور دکھلائے گا نہ بالمقابل دعا کی استجابت جو اعلام قبل از وقت کے ساتھ ہو اور نہ امور غیبیہ پر اطلاع دے گا۔لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ہے۔پس اب میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے جو شخص اس کے بعد اس سیدھے طریق سے میرے ساتھ مقابلہ نہ کرے اور نہ تکذیب سے باز آوے وہ خدا کی لعنت فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحاء کی لعنت کے نیچے ہے۔وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلاغ - (ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۰۳ حاشیہ ) ناظرین کو معلوم ہوگا کہ میں نے مخالف مولویوں اور سجادہ نشینوں کی ہر روز کی تکذیب اور زبان درازیاں دیکھ کر اور بہت سی گالیاں سن کر اُن کی اس درخواست کے بعد کہ ہمیں کوئی نشان دکھلایا جائے۔ایک اشتہار شائع کیا تھا جس میں ان لوگوں میں سے مخاطب خاص پیر مہر علی شاہ صاحب تھے۔اس اشتہار کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ اب تک مباحثات مذہبی بہت ہو چکے جن سے مخالف مولویوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا اور چونکہ وہ ہمیشہ آسمانی نشانوں کو درخواست کرتے رہتے ہیں کچھ تعجب نہیں کہ کسی وقت ان سے فائدہ اُٹھا لیں۔اس بنا پر یہ امر پیش کیا گیا تھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جو علاوہ کمالات پیری کے علمی تو غل کا بھی دم مارتے ہیں اور اپنے علم کے بھروسہ پر جوش میں آکر انہوں نے میری نسبت فتویٰ تکفیر کو تازہ کیا اور عوام کو بھڑ کانے کے لئے میری تکذیب کے متعلق ایک کتاب لکھی۔۔۔۔۔۔۔چونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس الہام سے مشرف فرمایا ہے کہ اَلرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرآن کہ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔اس لئے میرے لئے صدق یا کذب کے پر کھنے کے لئے یہ نشان کافی ہوگا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب میرے مقابل پر کسی سورۃ قرآن شریف کی عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھیں اگر وہ فائق اور غالب رہے تو پھر ان کی بزرگی ماننے میں مجھ کو کچھ کلام نہیں ہو گا۔پس میں نے اس امر کو قرار دے کر ان کی دعوت میں اشتہار شائع کیا جس میں سراسر نیک نیتی سے کام لیا گیا تھا لیکن اس کے جواب میں انہوں نے صاف گریز کی راہ اختیار لہذا آج میرے دل میں ایک تجویز خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی جس کو میں اتمام حجت الجن: ۲۷، ۲۸