حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 415

1۔92 قرآن شریف ایسی حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور رطب و یابس کا ذخیرہ اس کے اندر نہیں۔ہر ایک چیز کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے اندر موجود ہے وہ ہر پہلو سے نشان اور آیت ہے۔اگر کوئی انکار کرے تو ہم ہر پہلو سے اس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۴ ۸۔ملفوظات جلد اوّل صفحه ۵۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلب ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں۔پھر اگر سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق میں نے پورا ثبوت نہ دیا تو میں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں لیکن اس قدر محنت اٹھانا بڑے باخدا کا کام ہے۔ندوہ کو کیا ضرورت جو اس قدر سر درد اٹھاوے اور کون سا فکر آخرت ہے تا خدا سے ڈرے مگر ندوہ کے علماء ایک ایک کر کے یا درکھیں کہ وہ ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہ سکتے۔موتیں پکار رہی ہیں اور جس لہو و لعب میں وہ مشغول ہو رہے ہیں جس کا نام وہ دین رکھتے ہیں خدا آسمان پر دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ وہ دین نہیں ہے۔وہ ایک چھلکے پر راضی ہیں اور مغز سے بے خبر ہیں یہ اسلام کی خیر خواہی نہیں بلکہ بدخواہی ہے۔کاش اگر اُن کی آنکھیں ہوتیں تو وہ سمجھتے کہ دنیا میں بڑا گناہ کیا گیا کہ خدا کے مسیح کورڈ کر دیا گیا۔اس بات کا ہر ایک کو مرنے کے بعد پتہ لگے گا۔(تحفۃ الندوہ۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۰۱) اور مکالمہ الہیہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں کی طرح اس شخص کو جو فنافی النبی ہے اپنے کامل مکالمہ کا شرف بخشے۔اس مکالمہ میں وہ بندہ جو کلیم اللہ ہو خدا سے گویا آمنے سامنے باتیں کرتا ہے وہ سوال کرتا ہے خدا اس کا جواب دیتا ہے گو ایسا سوال جواب پچاس (۵۰) دفعہ واقعہ ہو یا اس سے زیادہ بھی۔خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ کے ذریعہ سے تین نعمتیں اپنے کامل بندہ کو عطا فرماتا ہے۔اوّل ان کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور قبولیت سے اطلاع دی جاتی ہے۔دوم اس کو خدا تعالیٰ بہت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے سوم اس پر قرآن شریف کے بہت سے علوم حکمیہ بذریعہ الہام کھولے جاتے ہیں۔پس جو شخص اس عاجز کا مکذب ہو کر پھر یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ ہنر مجھ میں پایا جاتا ہے میں اس کو خدا تعالے کی قسم دیتا ہوں کہ ان تینوں باتوں میں میرے ساتھ مقابلہ کرے اور فریقین میں قرآن شریف کے کسی مقام کی سات آیتیں تفسیر کے لئے بالا تفاق منظور ہو کر ان کی تفسیر دونوں فریق لکھیں یعنی فریق مخالف اپنے الہام سے اس کے معارف لکھے اور میں اپنے الہام سے لکھوں اور چند ایسے الہام قبل از وقت وہ