حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 406

۱۰۸۸ کے ہی شامل حال ہوتی ہے۔اللہ جل شانہ قرآن کریم میں مومنوں کو فرماتا ہے۔وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ا یعنی اے مومنو مقابلہ سے ہمت مت ہارو اور کچھ اندیشہ مت کرو اور انجام کار غلبہ تمہیں کا ہے اگر تم واقعی طور پر مومن ہو۔اور فرماتا ہے لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا لے یعنی خدا تعالیٰ ہرگز کافروں کو مومنوں پر راہ نہیں دے گا۔آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۳۲ تا ۳۳۴) مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ کھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محد ثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے اور اگر چہ ہر یک کو رویا صحیحہ اور مکاشفات میں سے کسی قدر حصہ ہے مگر مخالفین کے دل میں اگر گمان اور شک ہو تو وہ مقابلہ کر کے آزما سکتے ہیں کہ جو کچھ اس عاجز کو رویا صالحہ اور مکاشفہ اور استجابت دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافرہ نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے وہ دوسروں کو تمام حال کے مسلمانوں میں سے ہرگز نہیں دیا گیا اور یہ ایک بڑا محک آزمائش ہے کیونکہ آسمانی تائید کی مانند صادق کے صدق پر اور کوئی گواہ نہیں۔جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے بے شک خدائے تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک خاص طور پر مقابلہ کے میدانوں میں اس کی دستگیری فرماتا ہے۔چونکہ میں حق پر ہوں اور دیکھتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر میری ساری قوم کیا پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا رُوم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام اور اُن کے علما اور اُن کے فقراء اور اُن کے مشائخ اور اُن کے صلحا اور اُن کے مرد اور اُن کی عورتیں مجھے کا ذب خیال کر کے پھر میرے مقابل پر دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا اُن میں اور آسمانی دروازے مجھ پر کھلتے ہیں یا اُن پر اور وہ محبوب حقیقی اپنی خاص عنایات اور اپنے علوم لدنیہ اور معارف روحانیہ کے القا کی وجہ سے میرے ساتھ ہے یا اُن کے ساتھ۔تو بہت جلد اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ خاص فضل اور خاص رحمت جس سے دل مورد فیوض کیا جاتا ہے اس عاجز پر اس کی قوم سے زیادہ ہے۔کوئی شخص اس بیان کو تکبر کے رنگ میں نہ سمجھے بلکہ یہ تحدیث نعمت کی قسم میں سے ہے۔وَ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔اس کی طرف اشارہ ان الہامات میں ہے۔قُل اِنى ال عمران: ۱۴۰ النساء:۱۴۲