حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 399

۱۰۸۱ قوت کے سپرد ہیں۔نادان فلسفی ہر بات کا فیصلہ اپنی عقل خاص سے چاہتا ہے۔حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔تاریخی امور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربہ صحیحہ کے کیونکر لگ سکے گا۔امور قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔اسی طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں انسان دھو کہ میں مبتلا ہو کر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہو جاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف امور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔میں اس اصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ ذرا سی فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے اور روز مرہ ہم ان باتوں کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔پس جب روح جسم سے مفارقت کرتی ہے یا تعلق پکڑتی ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہوسکتا۔اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے۔اسی طرح پر قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس آنکھ کا کام نہیں یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔اگر محض عقل سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پتلا اتنا ہی بتلائے کہ رُوح کا وجود بھی ہے یا نہیں؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار ہافلا سفر د ہر یہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔اگر نری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو سفید چیز کو دیکھے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجود بھی یقینی طور پر نہیں بتلا سکتی۔چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کر سکے۔فلاسفر تو رُوح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور روح فی الخارج اُن کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔یہ تفاسیر روح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمۂ نبوت سے ملی ہیں اور نرے عقل والے تو دعوی ہی نہیں کر سکتے۔اگر کہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے۔تو یا د رکھو کہ انہوں نے منقولی طور پر چشمہ نبوت سے کچھ لے کر کہا ہے۔پس جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ روح کے متعلق علوم چشمہ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امر کہ ارواح کا قبور کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اسی چشم سے دیکھنا چاہئے اور کشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تو دہ خاک سے رُوح کا ایک تعلق ہوتا ہے۔اور السَّلَامُ عَلَيْكُمُ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ کہنے سے جواب ملتا ہے۔پس جو آدمی ان قومی سے کام لے جن سے کشف قبور ہوسکتا ہے وہ ان تعلقات کو دیکھ سکتا ہے۔قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کے لئے کشفی قوت اور حس کی ضرورت ہے۔اگر کوئی کہے یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء وصلحاء کا سلسلہ دنیا میں گذرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بے شمار لوگ ہو گزرے ہیں۔اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت المؤمنون: ۱۵