حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 398
1+1+ جسمانی صدمات بھی عجیب نظارہ دکھاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ روح اور جسم کا ایک ایسا تعلق ہے کہ اس راز کوکھولنا انسان کا کام نہیں اس سے زیادہ یہ بات ہے کہ غور سے معلوم ہوتا ہے کہ روح کی ماں جسم ہی ہے۔حاملہ عورتوں کے پیٹ میں روح کبھی اوپر سے نہیں گرتی بلکہ وہ ایک نور ہے جو نطفہ میں ہی پوشیدہ طور پر مخفی ہوتا ہے اور جسم کی نشوونما کے ساتھ چمکتا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہمیں سمجھا تا ہے کہ رُوح اس قالب میں سے ہی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جو نطفہ سے رحم میں تیار ہوتا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ یعنی پھر ہم اس جسم کو جو رحم میں تیار ہوا تھا ایک اور پیدائش کے رنگ میں لاتے ہیں اور ایک اور خلقت اس کی ظاہر کرتے ہیں جو روح کے نام سے موسوم ہے اور خدا بہت برکتوں والا ہے اور ایسا خالق ہے کہ کوئی اس کے برابر نہیں اور یہ جو فرمایا کہ ہم اسی جسم میں سے ایک اور پیدائش ظاہر کرتے ہیں۔یہ ایک گہرا راز ہے جو روح کی حقیقت دکھلا رہا ہے اور ان نہایت مستحکم تعلقات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو روح اور جسم کے درمیان واقع ہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد۰ اصفحہ ۳۲۱) سوال:۔روح کا جو تعلق قبور سے بتلایا گیا ہے اس کی اصلیت کیا ہے؟ فرمایا:۔اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا ہے وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کہنہ کیا ہے؟ جس کے معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔البتہ یہ ہمارا فرض ہوسکتا ہے کہ ہم یہ ثابت کر دیں کہ اس قسم کا تعلق قبور کے ساتھ ارواح کا ہوتا ہے اور اس میں کوئی محال عقلی لازم نہیں آتا۔اور اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت میں ایک نظیر پاتے ہیں۔در حقیقت یہ امر اسی قسم کا ہے جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض امور کی سچائی اور حقیقت صرف زبان ہی سے معلوم ہوتی ہے اور اس کو ذرا وسیع کر کے ہم یوں کہتے ہیں کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقے رکھے ہیں بعض خواص آنکھ کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں اور بعض صداقتوں کا پتہ صرف کان لگاتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ حس مشترک سے اُن کا سراغ چلتا ہے اور کتنی ہی سچائیاں ہیں کہ وہ مرکز قوت یعنی دل سے معلوم ہوتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت کے معلوم کرنے کے لئے مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔انسان بڑے قومی لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خدمتیں اس کی تکمیل کے لئے ہر ایک۔