حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 397
۱۰۷۹ رُوح اسی مادہ میں سے پیدا ہوتی ہے جو بعد اجتماع دونوں نطفوں کے رحم مادہ میں آہستہ آہستہ قالب کی صورت پیدا کرتا ہے اور اس مادہ کے لئے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی کسی قسم پر رُوح شبنم کی طرح گرے اور اس سے رُوح کا نطفہ پیدا ہو بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہوسکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو یا مچھلی کا یا ایسی مٹی ہو جو زمین کی عمیق نہ کے نیچے ہوتی ہے۔جس سے مینڈ کیس وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ہاں بلاشبہ یہ خدا کی قدرت کا ایک راز ہے کہ وہ جسم میں سے ایک ایسی چیز پیدا کرتا ہے کہ وہ نہ جسم ہے اور نہ جسمانی۔پس واقعات موجودہ مشہودہ محسوسہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آسمان سے روح نہیں گرتی بلکہ یہ ایک نئی روح ہوتی ہے جو ایک مرکب نطفہ میں سے بقدرت قادر پیدا ہو جاتی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ لا یعنی جب رحم میں قالب انسانی تیار ہو جاتا ہے تو پھر ہم ایک نئی پیدائش سے اُس کو مکمل کرتے ہیں یعنی ہم اس مادہ کے اندر سے جس سے قالب تیار ہوا ہے رُوح پیدا کر دیتے ہیں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۲۴،۱۲۳) یہ بھی طبعی تحقیقا توں سے ثابت ہے کہ تین سال تک انسان کا پہلا جسم تحلیل پا جاتا ہے اور اس کے قائم مقام دوسرا جسم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ یقینی امر ہے۔جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کسی بیماری کی وجہ سے نہایت درجہ لاغر ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ایک مشت استخوان رہ جاتا ہے تو صحت یابی کے بعد آہستہ آہستہ پھر وہ ویسا ہی جسم تیار ہو جاتا ہے۔سو اسی طرح ہمیشہ پہلے اجزاء جسم کے تحلیل پاتے جاتے ہیں اور دوسرے اجزاء اُن کی جگہ لیتے ہیں۔پس جسم پر گویا ہر آن ایک موت ہے اور ایک حیات ہے۔ایسا ہی جسم کی طرح رُوح پر بھی تغیرات وارد ہوتے رہتے ہیں اور اُس پر بھی ہر آن ایک موت اور ایک حیات ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ جسم کے تغیرات ظاہر اور کھلے کھلے ہیں مگر جیسا کہ رُوح مخفی ہے ایسا ہی اُس کے تغیرات بھی مخفی ہیں اور رُوح کے تغیرات غیر متناہی ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ رُوح کے تغیرات غیر محدود ہیں یہاں تک کہ بہشت میں بھی وہ تغیرات ہوں گے۔مگر وہ تغیرات رو بہ ترقی ہوں گے اور رُوحیں اپنی روحانی صفات میں آگے سے آگے بڑھتی جائیں گی اور پہلی حالت سے دوسری حالت ایسی ڈور اور بلند تر ہو جائے گی گویا پہلی حالت بہ نسبت دوسری حالت کے موت کے مشابہ ہوگی۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۷، ۱۶۸) ل المؤمنون: ۱۵