حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 396

۱۰۷۸ دوسروں کے سہارے سے اپنی خدائی چلا رہا ہے اس کی خدائی کی خیر نہیں وہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں اور یہ کہنا کہ تناسخ کا چکر جو کئی ارب سال سے بموجب آریہ صاحبوں کے عقیدہ کے جاری ہے اس کا باعث گذشتہ پیدائشوں کے گناہ ہیں۔یہ خیال طبعی علم کے تجربہ کے ذریعہ سے نہایت فضول اور لچر اور باطل ثابت ہوتا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ رُوحوں کی پیدائش میں بھی خدا تعالیٰ کا ایک نظام ہے جو کبھی پیش و پس نہیں ہوتا۔مثلاً برسات کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور گرمی کے دنوں میں بکثرت لکھیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو کیا انہی دنوں میں ہمیشہ دنیا میں پاپ زیادہ ہوتے ہیں اور نہایت سخت گناہ کی وجہ سے انسانوں کو کھیاں اور برسات کے کیڑے بنایا جاتا ہے؟ اس طرح کے ہزار ہا دلائل ہیں جن سے تناسخ باطل ہوتا ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۴۱ تا ۴۴۴ حاشیه ) یہ بات نہایت درست اور صحیح ہے کہ روح ایک لطیف نور ہے جو اس جسم کے اندر ہی سے پیدا ہو جاتا ہے جو رحم میں پرورش پاتا ہے۔پیدا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اول مخفی اور غیر محسوس ہوتا ہے پھر نمایاں ہو جاتا ہے اور ابتدا سے اس کا خمیر نطفہ میں موجود ہوتا ہے بے شک وہ آسمانی خدا کے ارادہ سے اور اس کے اذن اور اُس کی مشیت سے ایک مجہول الکنہ علاقہ کے ساتھ نطفہ سے تعلق رکھتا ہے اور نطفہ کا وہ ایک روشن اور نورانی جوہر ہے۔نہیں کہہ سکتے کہ وہ نطفہ کی ایسی جزو ہے جیسا کہ جسم جسم کی جزو ہوتا ہے مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ باہر سے آتا ہے۔یا زمین پر گر کر نطفہ کے مادہ سے آمیزش پاتا ہے بلکہ وہ ایسا نطفہ میں مخفی ہوتا ہے جیسا کہ آگ پتھر کے اندر ہوتی ہے۔خدا کی کتاب کا یہ منشا نہیں ہے کہ روح الگ طور پر آسمان سے نازل ہوتی ہے یا فضا سے زمین پر گرتی ہے اور پھر کسی اتفاق سے نطفہ کے ساتھ مل کر رحم کے اندر چلی جاتی ہے بلکہ یہ خیال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔اگر ہم ایسا خیال کریں تو قانون قدرت ہمیں باطل پر ٹھہراتا ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۰ اصفحه ۳۲۲ ،۳۲۳) ثابت شدہ واقعات یقینی اور قطعی طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ خود نطفہ مرد اور عورت کا بغیر اس کے کہ اُس پر شبنم کی طرح آسمان کی فضا سے روح گرے رُوح پیدا ہونے کی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے۔پھر جب مرد اور عورت کا نطفہ باہم مل جاتا ہے تو وہ استعداد بہت قوی ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ استعداد بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب بچہ کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت اور امر سے اُسی قالب میں سے رُوح پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ واقعات ہیں جو مشہود اور محسوس ہیں۔اسی کو ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی کیونکہ ہم رُوح کو جسم اور جسمانی نہیں کہہ سکتے اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ