حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 395

۱۰۷۷ ہونے کی وجہ سے بھی ہر ایک عارف کا فرض ہے جو اس کو غلط سمجھے۔اس کی بنیاد اس طرح پر غلط ہے کہ ستیارتھ پر کاش میں بتلایا گیا ہے کہ رُوح عورت کے پیٹ میں اس طرح آتی ہے کہ شبنم کے ساتھ کسی ساگ پات پر پڑتی ہے اور اس ساگ پات کے کھانے سے رُوح بھی ساتھ کھائی جاتی ہے۔پس اس سے تو لازم آتا ہے کہ رُوح دوٹکڑے ہو کر زمین پر پڑتی ہے ایک ٹکڑے کو اتفاقاً مرد کھا لیتا ہے اور دوسرے ٹکڑے کو عورت کھاتی ہے۔کیونکہ یہ ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ بچہ کوروحانی قوتیں اور روحانی اخلاق مرد اور عورت دونوں سے ملتے ہیں نہ کہ صرف ایک سے۔پس دونوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے ساگ پات کو کھا وہیں جس میں روح ہو اور صرف ایک کا کھانا کافی نہیں۔پس یہ بداہت یہ امر ستلزم تقسیم رُوح ہے اور تقسیم رُوح باطل ہے۔اس لئے تناسخ باطل ہے۔اور آزمائش کے طور پر یہ مسئلہ اس طرح پر غلط ٹھہرتا ہے کہ جس طرح ہر قسم کی روحیں پیدا ہوتی رہی ہیں ان تمام صورتوں میں ممکن ہی نہیں کہ شبنم کے ساتھ وہ روحیں پیدا ہوتی ہوں۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ بالوں میں جوئیں پڑ جاتی ہیں۔وہ روحیں کس شبنم کے ساتھ کھائی جاتی ہیں؟ ایسا ہی کنک کے کھاتوں میں سری پڑ جاتی ہے۔وہ کروڑ ہا ر ھیں جو کھاتہ کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں وہ کس شبنم کے ساتھ کھاتہ کے اندر اترتی ہیں اور کون ان کو کھاتا ہے؟ ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ پیٹ میں کدو دانے پیدا ہوتے ہیں اور کبھی کبھی دماغ میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور طبعی علم کے تجربہ سے پانی کے ہر ایک قطرے میں ہزار ہا کیڑے ثابت ہوتے ہیں۔یہ کس شبنم سے پڑتے ہیں؟ تجربہ بتلا رہا ہے کہ ہر ایک چیز میں ایک قسم کے کیرہ کا مادہ موجود ہے۔پشمینہ میں بھی ایک قسم کا کیڑہ لگ جاتا ہے۔لکڑی میں بھی ، اناج میں بھی، پھلوں میں بھی اور بعض پھلوں میں پھل کی پیدائش کے ساتھ ساتھ ہی کیڑہ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ گولر کا درخت وہ کس شبنم سے کیڑے آتے ہیں۔دیکھو پاکیزگی کے لحاظ سے بھی تناسخ کا مسئلہ کیسا خراب ہے۔کیا جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے اس کے ساتھ کوئی فہرست بھی اندر سے نکلتی ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ لڑ کی فلاں مرد کی ماں یا دادی یا ہمشیرہ ہے اس سے وہ شادی کرنے سے پر ہیز کرے۔اور یہ تناسخ کا مسئلہ پر میشر کی قدرت میں بھی سخت رخنہ انداز ہے۔خدا وہ خدا ہے کہ چاہے تو ایک لکڑی میں جان ڈال دے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کا عصا ایک دم میں لکڑی اور ایک دم میں سانپ بن جاتا تھا مگر رُوحوں کے انادی ہونے کی حالت میں ہندوؤں کا پر میشر ہرگز پر میشر نہیں رہ سکتا کیونکہ جو محض۔