حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 394
1۔29 (۲) علوم کو حاصل کرنے کی ایک قوت (۳) علوم حاصل کردہ کے محفوظ رکھنے کی ایک قوت (۴) محبت الہی کی ایک قوت (۵) لذت وصال الہی اٹھانے کی ایک قوت (۶) مکاشفات کی ایک قوت (۷) مؤثر اور متاثر ہونے کے یا یوں کہو کہ با ہم عامل اور معمول ہونے کی ایک قوت (۸) تعلق اجسام قبول کرنے کی ایک قوت (۹) تخلق باخلاق اللہ کی ایک قوت (۱۰) مورد الہام الہی ہونے کی ایک قوت (۱۱) بسطی اور قبضی حالت پیدا ہونے کی ایک قوت (۱۲) معارف غیر متناہیہ کے قبول کرنے کی ایک قوت (۱۳) رنگین برنگ تجلی الوہیت ہونے کی ایک قوت (۱۴) عقلی قوت جس سے امتیا ز حسن و فتح اُن پر ظاہر ہوتا ہے (۱۵) ابقائے اثر وقبول اثر کی ایک قوت بمقابلہ اپنے اجسام متعلقہ کے (۱۶) اقرار بوجود خالق حقیقی کی ایک قوت (۱۷) اجسام کے ساتھ اور ان کے اشکال خاصہ کے ساتھ مل کر بعض نئے خواص کے ظاہر کرنے کی قوت (۱۸) ایک قوت کشش با ہمی جس کو مقناطیسی قوت کہنا چاہئے۔(۱۹) ابدی طور پر قائم رہنے کی ایک قوت (۲۰) جسم مفارق کی خاک سے ایک خاص تعلق رکھنے کی قوت جو کشفی طور پر ارباب کشف قبور پر ظاہر ہوتی ہے۔ایسا ہی اور بھی بہت سی ایسی قوتیں ہیں جن کا مفصل بیان نہایت لطافت اور خوبی سے قرآن شریف سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۴۵ تا ۲۴۷) تناسخ کے مسئلہ جیسا اور کوئی جھوٹا مسئلہ نہیں کیونکہ اس کی بنیاد بھی غلط ہے اور آزمائش کے طور پر بھی یہ غلط ثابت ہوتا ہے اور انسانی پاکیزگی کے لحاظ سے بھی غلط ٹھہرتا ہے اور خدا کی قدرت میں رخنہ انداز میں مندرج ہے۔