حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 393
۱۰۷۵ یہ جو خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روح عالم امر میں سے ہے جس پر ماسٹر صاحب نے اپنی خوش فہمی سے جھٹ پٹ اعتراض بھی کر دیا۔یہ ایک بڑی بھاری صداقت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ربوبیت الہی دوطور سے نا پیدا چیزوں کو پیدا کرتی ہے اور دونوں طور کے پیدا کرنے میں پیدا شدہ چیزوں کے الگ الگ نام رکھے جاتے ہیں۔جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طرز پیدائش کا نام خلق ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہے الالَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمرُ یعنی بسائط کا عدم محض سے پیدا کرنا اور مرکبات کو ظہور خاص میں لانا دونوں خدا کا فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے تعالیٰ کی پیدائش ہے۔اب ماسٹر صاحب! دیکھا کہ یہ کیسی اعلیٰ اور عمدہ صداقت ہے جس کو ایک مختصر آیت اور چند محدود لفظوں میں خدائے تعالیٰ نے ادا کر دیا۔اس کے مقابلہ پر اگر آپ وید کے عقیدہ کو سوچیں تو جتنا شرمندہ ہوں اتنا ہی تھوڑا ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۷۱ تا ۱۷۷) میں سچ سچ کہتا ہوں بالکل سچ جس میں ذرا مبالغہ کی آمیزش نہیں کہ قرآن شریف نے جس قدر خوبی اور عمدگی اور صفائی اور سچائی سے رُوحوں کے خواص اور اُن کی قوتیں اور طاقتیں اور استعداد میں اور ان کے دیگر کوائف عجیبہ بیان کئے ہیں اور پھر ان سب بیانات کا ثبوت دیا ہے وہ ایسا عالی اور باریک اور پر حکمت بیان ہے اور ایسے کامل درجہ کی وہ صداقتیں ہیں کہ اگر وید کے چاروں رشی دوبارہ جنم لے کر بھی دنیا میں آویں اور جہاں تک ممکن ہو خوض اور فکر سے زور لگا دیں تب بھی یہ مقام وسعت علمی اور یہ معارف عالیہ انہیں میسر نہیں آسکتے اگر چہ فکر کرتے کرتے مر ہی جاویں۔سرمه چشم آرید روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۳۴) روحوں میں بہت سے خواص اور عجیب طاقتیں اور استعداد میں پائی جاتی ہیں جن کو قرآن شریف نے استیفاء سے ذکر کیا ہے۔مثلاً اُن میں چند قو تیں اور استعداد میں یہ ہیں جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں :۔(۱) علوم اور معارف کی طرف شائق ہونے کی ایک قوت الاعراف: ۵۵