حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 390
۱۰۷۲ کیا تم اختیار رکھتے ہو کہ نیند کی حالت میں تم اپنی ان صفات اور حالات اور علوم کو اپنے قبضہ میں رکھ سکو جو بیداری میں تم کو حاصل ہیں؟ نہیں بلکہ آنکھ بند کرنے کے ساتھ ہی رُوح کی حالت بدل جاتی ہے۔اور ایک ایسی نیستی اس پر وارد ہوتی ہے کہ تمام کارخانہ اس کی ہستی کا الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ رُوح کی موت کے بارے میں قرآن شریف میں فرماتا ہے۔اللَّهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَهُ تَمَّتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الجز و ۲۴ سورة الزمر ) ( ترجمہ ) خدا جانوں کو جب ان کی موت کا وقت آجاتا ہے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے یعنی وہ جانیں بے خود ہو کر الہی تصرف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آ جاتی ہیں اور زندگی کی خود اختیاری اور خود شناسی ان سے جاتی رہتی ہے اور موت اُن پر وارد ہو جاتی ہے۔یعنی بکلی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفات حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی رُوح جو دراصل مرتی نہیں مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے وہ رُوح کی وہ حالت ہے کہ جب انسان سوتا ہے تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے اور ایسی حالت میں بھی رُوح خدا تعالیٰ کے قبضہ اور تصرف میں آجاتی ہے۔اور ایسا تغیر اس پر وارد ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر باقی نہیں رہتی۔غرض موت اور خواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرف رُوح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خود شناسی ہے بکلی جاتی رہتی ہے۔پھر خدا ایسی رُوح کو جس پر در حقیقت موت وارد کر دی ہے واپس جانے سے روک رکھتا ہے اور وہ رُوح جس پر اُس نے در حقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر ایک مقرر وقت تک دنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔اس ہمارے کاروبار میں ان لوگوں کے لئے نشان ہیں جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں۔یہ ہے ترجمہ مع شرح آیت مدوحہ بالا کا اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے کہ جیسی جسم پر موت ہے۔روحوں پر بھی موت ہے لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اور اخیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں کوئی تین دن کے بعد کوئی ہفتہ کے بعد کوئی چالیس دن کے بعد اور یہ حیات ثانی نہایت آرام اور آسائش اور لذت کی اُن کو ملتی ہے۔یہی حیات ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے نیک بندے اپنی پوری قوت اور پوری کوشش اور پورے صدق وصفا الزمر :٤٣