حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 387
۱۰۶۹ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَی ا یعنی میں نے روحوں کو پوچھا کہ کیا میں تمہارے پیدا کرنے والا نہیں تو تمام روحوں نے یہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ روحوں کی فطرت میں یہی منقش اور مرکوز ہے کہ وہ اپنے پیدا کنندہ کی قائل ہیں اور پھر بعض انسان غفلت کی تاریکی میں پڑ کر اور پلید تعلیموں سے متاثر ہو کر کوئی دہریہ بن جاتا ہے اور کوئی۔آریہ اور اپنی فطرت کے مخالف اپنے پیدا کنندہ سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے باپ اور ماں کی محبت رکھتا ہے یہاں تک کہ بعض بچے ماں کے مرنے کے بعد مر جاتے ہیں۔پھر اگر انسانی روحیں خدا کے ہاتھ سے نہیں نکلیں اور اس کی پیدا کردہ نہیں تو خدا کی محبت کا نمک کس نے ان کی فطرت پر چھڑک دیا ہے اور کیوں انسان جب اس کی آنکھ کھلتی ہے اور پردہ غفلت دُور ہوتا ہے تو دل اس کا خدا کی طرف کھینچا جاتا ہے اور محبت الہی کا دریا اس کے صحن سینہ میں بہنے لگتا ہے۔آخر ان روحوں کا خدا سے کوئی رشتہ تو ہوتا ہے جو اُن کو محبت الہی میں دیوانہ کی طرح بنا دیتا ہے۔وہ خدا کی محبت میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ تمام چیزیں اس کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب تعلق ہے۔ایسا تعلق نہ ماں کا ہوتا ہے نہ باپ کا۔پس اگر بقول آریوں کے روحیں خود بخود ہیں تو یہ تعلق کیوں پیدا ہو گیا اور کس نے یہ محبت اور عشق کی قوتیں خدا تعالیٰ کے ساتھ روحوں میں رکھ دیں۔یہ مقام سوچنے کا مقام ہے اور یہی مقام ایک کچی معرفت کی کنجی ہے۔(چشمۂ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۶۷) خدا نے جو انسان کو اپنی طرف بلایا ہے تو اسی لئے اس نے پہلے سے پرستش اور عشق کے مناسب حال قو تیں اس میں رکھ دی ہیں۔پس وہ قو تیں جو خدا کی طرف سے ہیں۔خدا کی آواز کوسن لیتی ہیں۔اسی طرح جب خدا نے چاہا کہ انسان خدا کی معرفت میں ترقی کرے تو اُس نے پہلے سے ہی انسانی روح میں معرفت کے حواس پیدا کر رکھے ہیں اگر وہ پیدا نہ کرتا تو پھر کیونکر انسان اس کی معرفت حاصل کر سکتا تھا۔انسان کی روح میں جو کچھ ہے دراصل خدا سے ہے اور وہ خدا کی صفات ہیں جو انسانی آئینہ میں ظاہر ہیں۔ان میں سے کوئی صفت بُری نہیں بلکہ ان کی بد استعمالی اور اُن میں افراط تفریط کرنا بُرا ہے۔شاید کوئی جلدی سے یہ اعتراض کرے کہ انسان میں حسد ہے بغض ہے اور دوسری صفات ذمیمہ ہوتے ہیں پھر وہ کیونکر خدا کی طرف سے ہو سکتے ہیں۔پس واضح رہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں دراصل تمام انسانی اخلاق الہبی اخلاق کا ظل ہیں کیونکہ انسانی روح خدا سے ہے لیکن کمی یا زیادتی یا الاعراف :۱۷۳