حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 35

212 اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آدم کے وجود سے پہلے بھی ایک مخلوقات دنیا میں رہ چکی ہے اور وہ مرتے بھی تھے۔اور اس وقت نہ آدم موجود تھا اور نہ آدم کا گناہ۔پس یہ موت کیونکر پیدا ہوگئی۔دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ آدم بہشت میں بغیر ایک منع کئے ہوئے پھل کے اور سب چیزیں کھا تا تھا۔پس کچھ شک نہیں ہوسکتا کہ وہ گوشت بھی کھاتا ہوگا۔اس صورت میں بھی آدم کے گناہ سے پہلے حیوانات کی موت ثابت ہوتی ہے اور اگر اس سے بھی درگذر کریں تو کیا ہم دوسرے امر سے بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آدم بہشت میں ضرور پانی پیتا تھا کیونکہ کھانا اور پینا ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لازم پڑے ہوئے ہیں اور طبعی تحقیقات سے ثابت ہے کہ ہر ایک قطرہ میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں۔پس کچھ شک نہیں کہ آدم کے گناہ سے پہلے کروڑہا کیڑے مرتے تھے۔پس اس سے بہر حال ماننا پڑتا ہے کہ موت گناہ کا پھل نہیں اور یہ امر عیسائیوں کے اصول کو باطل کرتا ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۲ تا ۷۴ ) عیسائی اپنے اصول کے موافق اعمال صالحہ کو کچھ چیز نہیں سمجھتے اور ان کی نظر میں یسوع کا کفارہ نجات پانے کے لئے ایک کافی تدبیر ہے۔لیکن علاوہ اس بات کے کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یسوع کا کفارہ نہ تو عیسائیوں کو بدی سے بچا سکا اور نہ یہ بات صحیح ہے کہ کفارہ کی وجہ سے ہر ایک بدی اُن کو حلال ہو گئی۔ایک اور امر منصفوں کے لئے قابل غور ہے اور وہ یہ کہ عقلی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک کام بلاشبہ اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتے ہیں جو نیکو کار کو وہ تاثیر نجات کا پھل بخشتی ہے کیونکہ عیسائیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ بدی اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا مرتکب ہمیشہ کے جہنم میں جاتا ہے تو اس صورت میں قانون قدرت کے اس پہلو پر نظر ڈال کر یہ دوسرا پہلو بھی ماننا پڑتا ہے کہ علی ہذا القیاس نیکی بھی اپنے اندر ایک تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا بجالانے والا وارث نجات بن سکتا ہے۔اور منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ جس فدیہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قدیم قانونِ قدرت کے بالکل مخالف ہے کیونکہ قانون قدرت میں کوئی اس بات کی نظیر نہیں کہ ادنی کے بچانے کے لئے اعلیٰ کو مارا جائے۔ہمارے سامنے خدا کا قانون قدرت ہے۔اس پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ ادنی اعلیٰ کی حفاظت کے لئے مارے جاتے ہیں چنانچہ جس قدر دنیا میں جانور ہیں یہاں تک کہ پانی کے کیڑے وہ سب انسان کے بچانے کے لئے جو اشرف المخلوقات ہے کام میں آ رہے ہیں۔پھر یسوع کے خون کا فدیہ کس قدر اس قانون کے مخالف ہے جو صاف صاف نظر آ رہا ہے اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جو زیادہ قابل قدر اور پیارا ہے اسی کے بچانے کے لئے ادنی کو اس اعلیٰ پر