حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 34
ہو سکے گی اور یہ عجیب ظلم ہے کہ ہر ایک خبیث اور ملعون جو یسوع پر ایمان لاوے تو اس کی لعنت یسوع پر پڑے اور اس شخص کو بری اور پاکدامن سمجھا جائے۔پس ایسا غیر منقطع سلسلہ لعنتوں کا جو قیامت تک ممتد رہے گا۔اگر وہ ہمیشہ تازہ طور پر غریب یسوع پر ڈالا جائے تو کس زمانے میں اس کو لعنتوں سے سبکدوشی ہوگی۔۔۔۔اس سے تو ماننا پڑتا ہے کہ یسوع کے لئے وہ دن پھر کبھی نہیں آئیں گے جو اس کو خدا کی محبت اور معرفت کے نور کے سایہ میں رکھنے والے ہوں پس ایسے عقیدہ سے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ یہی ہے کہ ان لوگوں نے ایک خدا کے مقدس کو ایک غیر منقطع ناپاکی میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۳ ۶۴) عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خدا تعالیٰ کا عدل بغیر کفارہ کے کیونکر پورا ہو بالکل مہمل ہے کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یسوع باعتبار اپنی انسانیت کے بے گناہ تھا مگر پھر بھی ان کے خدا نے یسوع پر ناحق تمام جہان کی لعنت ڈال کر اپنے عدل کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خدا کو عدل کی کچھ بھی پروا نہیں۔یہ خوب انتظام ہے کہ جس بات سے گریز تھا اسی کو یہ افتح طریق اختیار کر لیا گیا۔واویلا تو یہ تھا کہ کسی طرح عدل میں فرق نہ آوے اور رحم بھی وقوع میں آ جائے مگر ایک بے گناہ کے گلے پر ناحق چھری پھیر کر نہ عدل قائم رہ سکا اور نہ رحم۔لیکن یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا دی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ در گذر کی جائے۔یہ ایک ایسا دھوکا ہے کہ جس میں قلت تدبر سے کو نہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے واقف ہوتا ہے تب اس حالت میں وہ عدل کے مواخذہ کے نیچے آتا ہے لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حدود مرتب کئے سو عدل اور رحم میں تناقض سمجھنا جہالت ہے۔ایک اعتراض جو میں نے پادریوں کے اصول پر کیا تھا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ” انسان اور تمام حیوانات کی موت آدم کے گناہ کا پھل ہے حالانکہ یہ خیال دو طور سے صحیح نہیں ہے اول یہ کہ کوئی محقق