حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 380

سے حیران ہے۔غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی پر بڑا صدمہ پہنچے گا۔یہاں تک کہ اُس کا ہونا نہ ہونا برابر ہو گا اور اس کے وجود پر کوئی عقلی دلیل قائم نہ ہو سکے گی۔اور نیز وہ مبداء کل فیوض کا نہیں ہو سکے گا بلکہ اس کا صرف ایک ناقص کام ہو گا اور جو اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ہیں اُن کی نسبت یہی کہنا پڑے گا کہ وہ سب خود بخود ہیں۔لیکن ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر فی الحقیقت ایسا ہی ہے تو اس سے اگر فرضی طور پر پر میشر کا وجود مان بھی لیا جائے تب بھی وہ نہایت ضعیف اور نکما ساوجود ہو گا جس کا عدم وجود مساوی ہوگا یہاں تک کہ اگر اُس کا مرنا بھی فرض کیا جائے تو روحوں کا کچھ بھی حرج نہ ہو گا اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہو گا کہ کوئی روح اُس کی بندگی کرنے کے لئے مجبور کی جائے کیونکہ ہر یک روح اس کو جواب دے سکتی ہے کہ جس حالت میں تم نے مجھے پیدا ہی نہیں کیا اور نہ میری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تم نے بنایا تو پھر آپ کس استحقاق سے مجھ سے اپنی پرستش چاہتے ہیں؟ اور نیز جب کہ پر میشر روحوں کا خالق ہی نہیں تو اُن پر محیط بھی نہیں ہو سکتا۔اور جب احاطہ نہ ہوسکا تو پر میشر اور روحوں میں حجاب ہو گیا۔اور جب حجاب ہوا تو پر میشر سرب گیانی نہ ہو سکا یعنی علم غیب پر قادر نہ ہوا اور جب قادر نہ رہا تو اس کی سب خدائی درہم برہم ہوگئی تو گویا پر میشر ہی ہاتھ سے گیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ علم کامل کسی شئے کا اس کے بنانے پر قادر کر دیتا ہے۔اسی لئے حکماء کا مقولہ ہے کہ جب علم اپنے کمال تک پہنچ جائے تو وہ عین عمل ہو جاتا ہے۔اس حالت میں بالطبع سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پر میشر کو روحوں کی کیفیت اور کنہ کا پورا پورا علم بھی ہے یا نہیں؟ اگر اس کو پورا پورا علم ہے تو پھر کیا وجہ کہ با وجود پورا پورا علم ہونے کے پھر ایسی ہی رُوح بنا نہیں سکتا؟ سو اس سوال پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ پر میشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ ان کی نسبت پورا پورا علم بھی نہیں رکھتا۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۳۹ تا ۱۴۱) آریہ صاحبوں کا وید ایک ایسا خدا بتا رہا ہے جس سے حق جو آدمی ضرور ہے کہ نفرت کرے وہ اپنے پر میشر کو اپنی بادشاہی کا خود موجب نہیں سمجھتے بلکہ ایسا خیال کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کسی بخت و اتفاق سے اُس کو ملی ہے یعنی اس کی خوش قسمتی سے چند ارواح اور اجسام بنے بنائے اُس کو مل گئے ہیں اور شاید ابھی ارواح اور اجسام کا کوئی اور دفینہ بھی کسی جگہ پوشیدہ ہو جس کی ہنوز پر میشر کو اطلاع نہیں ہوئی مگر کیا یہ ایسا اعتقاد ہے جو عظمت و قدرت و شان کبریائی حضرت اللہ جل شانہ کے مطابق کہہ سکتے ہیں۔خدائے تعالیٰ وہ کامل ذات ہے جو تمام فیوض کا مبدء اور تمام انوار کا سر چشمہ اور تمام چیزوں کا قیوم اور