حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 367
۱۰۴۹ عورت خود بخود مرد کی طرح اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے بلکہ جدا ہونے کی حالت میں نکاح سے بھی زیادہ احتیاط کی ہے کہ حاکم وقت کا ذریعہ بھی فرض قرار دیا ہے تا عورت اپنے نقصان عقل کی وجہ سے اپنے تئیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۶ تا ۲۸۹) پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ عورتیں کھیتوں کی مانند صرف شہوت رانی کا ذریعہ ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ یہ ناپاک طبع ہند و افترا میں کہاں تک بڑھتا جاتا ہے اور کیسے اپنی طرف سے الفاظ تراش کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتا ہے۔ایسے مفتری کے مقابل پر بجز اس کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ لعنة الله علی الکاذبین۔قرآن شریف میں صرف یہ آیت ہے نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ لا یعنی تمہاری عورتیں تمہاری اولاد پیدا ہونے کے لئے ایک کھیتی ہیں۔پس تم اپنی کھیتی کی طرف جس طور سے چاہو آؤ۔صرف کھیتی ہونے کا لحاظ رکھو یعنی اس طور سے صحبت نہ کرو جو اولاد کی مانع ہو۔ہاں اگر عورت بیمار ہو اور یقین ہو کہ حمل ہونے سے اس کی موت کا خطرہ ہوگا ایسا ہی صحت نیت سے کوئی اور مانع ہو تو یہ صورتیں مستقلی ہیں۔ورنہ عند الشرع ہرگز جائز نہیں کہ اولاد ہونے سے روکا جائے۔غرض جبکہ خدا تعالیٰ نے عورت کا نام کھیتی رکھا تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اسی واسطے اس کا نام کھیتی رکھا کہ اولاد پیدا ہونے کی جگہ اس کو قرار دیا۔اور نکاح کے اغراض میں سے ایک یہ بھی غرض رکھی کہ تا اس نکاح سے خدا کے بندے پیدا ہوں جو اس کو یاد کریں۔دوسری غرض خدا تعالیٰ نے یہ بھی قرار دی ہے کہ تا مرد اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے خاوند کے ذریعہ سے بدنظری اور بدعملی سے محفوظ رہے۔تیسری غرض یہ بھی قرار دی کہ تا با ہم انس پیدا ہو کر تنہائی کے رنج سے محفوظ رہیں۔یہ سب آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں ہم کہاں تک کتاب کو طول دیتے جائیں۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۳٬۲۹۲) مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدد ازواج میں یہ ظلم ہے کہ اعتدال نہیں رہتا۔اعتدال اسی میں ہے کہ ایک مرد کے لئے ایک ہی بیوی ہو مگر مجھے تعجب ہے کہ وہ دوسروں کے حالات میں کیوں خواہ نخواہ مداخلت کرتے ہیں جبکہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں۔اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخو بی خبر ہے تو یہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب البقرة: ٢٢٤