حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 357
۱۰۳۹ غلطیوں کے مواخذہ کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ لوگ ہر ایک قسم کی بدچلنی سے باز آویں اور خدا کے پاک نبیوں کی نسبت بد زبانی سے پیش نہ آویں اور غریبوں پر ظلم نہ کریں۔اور صدقہ خیرات بہت کریں اور خدا کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں۔نہ پتھر کو نہ آگ کو نہ انسان کو۔نہ پانی کو نہ سورج کو نہ چاند کو اور تکبر اور شرارت کی راہوں کو چھوڑ دیں۔( مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۰۴) یہ بات مسلمانوں کو بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ گو ایک شخص کا انجام خدائے تعالیٰ کے علم میں کفر ہو مگر عادت اللہ قدیم سے یہی ہے کہ اس کی تضرع اور خوف کے وقت عذاب کو دوسرے وقت پر ٹال دیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ وعید میں خدا کے ارادہ عذاب کا تختلف جائز ہے مگر بشارت میں جائز نہیں۔جیسا کہ قوم یونس کی وعید میں نزول عذاب کی قطعی تاریخ بغیر کسی شرط کے بتلا کر پھر اس قوم کی تضرع پر وہ عذاب موقوف رکھا گیا اور قرآن شریف اور توریت کے اتفاق سے یہ بھی ثابت ہے کہ فرعون کے ایمان کے وعدہ پر خدا تعالیٰ بار بار عذاب کو اُس سے ٹالتا رہا حالانکہ جانتا تھا کہ فرعون کا خاتمہ کفر پر ہے مگر اس بات کا ستر کہ وعید میں تخلف ارادہ عذاب کا کیوں اور کس وجہ سے بعض اوقات میں ہو جاتا ہے حالانکہ بظاہر تخلف وعید میں بھی رائحہ کذب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی کو سزا دینا دراصل خدا تعالیٰ کے ذاتی ارادہ میں داخل نہیں ہے۔اس کے صفاتی نام جو اصل الاصول تمام صفاتی ناموں کے ہیں چار ہیں۔اور چاروں جو د اور کرم پر نت مشتمل ہیں۔یعنی وہی نام جو سورۃ فاتحہ کی پہلی تین آیتوں میں مذکور ہیں۔یعنی رب العالمین اور رحمن اور رحیم اور مالک یوم الدین یعنی مالک یوم جزا۔ان ہر چہار صفات میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے سراسر نیکی کا ارادہ کیا گیا ہے یعنی پیدا کرنا۔پرورش کرنا جس کا نام ربوبیت ہے۔اور بے استحقاق آرام کے اسباب مہیا کرنا جس کا نام رحمانیت ہے اور تقویٰ اور خدا ترسی اور ایمان پر انسان کے لئے وہ اسباب مہیا کرنا جو آئندہ دُکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھیں جس کا نام رحیمیت ہے۔اور اعمال صالحہ کے بجالانے پر جو عبادت اور صوم اور صلوٰۃ اور بنی نوع کی ہمدردی اور صدقہ اور ایثار وغیرہ ہے۔وہ مقام صالح عطا کرنا جو دائگی سرور اور راحت اور خوشحالی کا مقام ہے جس کا نام جزاء خیر از طرف مالک یوم الجزاء ہے۔سوخدا نے ان ہر چہار صفات میں سے کسی صفت میں بھی انسان کے لئے بدی کا ارادہ نہیں کیا۔سراسر خیر اور بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔لیکن جو شخص اپنی بدکاریوں اور بے اعتدالیوں سے ان صفات کے