حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 356
۱۰۳۸ میں کمال تک پہنچ گئے تب ہم نے اُن کو پکڑ لیا اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ کیونکر ہمارا عقاب اُن پر وارد ہوا۔اور پھر فرماتا ہے۔وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرُنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ لا یعنی کافروں نے اسلام کے مٹانے کے لئے ایک مکر کیا۔اور ہم نے بھی ایک مکر کیا۔یعنی یہ کہ اُن کو اپنی مکاریوں میں بڑھنے دیا تا وہ ایسے درجہ شرارت پر پہنچ جائیں کہ جو سنت اللہ کے موافق عذاب نازل ہونے کا درجہ ہے۔ان تمام آیات سے ثابت ہوا کہ عذاب الہی جو دنیا میں نازل ہوتا ہے وہ بھی کسی پر نازل ہوتا ہے کہ جب وہ شرارت اور ظلم اور تکبر اور علو اور غلو میں نہایت کو پہنچ جاتا ہے۔یہ نہیں کہ ایک کا فرخوف سے مرا جاتا ہے اور پھر بھی عذاب الہی کے لئے اُس پر صاعقہ پڑے اور ایک مشرک اندیشہ عذاب سے جاں بلب ہو اور پھر بھی اس پر پتھر برسیں۔خداوند تعالیٰ نہایت درجہ کا رحیم اور حلیم ہے۔عذاب کے طور پر صرف اسی کو اس دنیا میں پکڑتا ہے جو اپنے ہاتھ سے عذاب کا سامان تیار کرے۔(انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۴ تا ۱۶ حاشیہ نمبرا) خدا تعالیٰ کا اپنے مجرموں سے دو قسم کا معاملہ ہے۔اور مجرم دو قسم کے ہیں۔(۱) ایک وہ مجرم ہے جو حد سے زیادہ نہیں بڑھتے۔اور گو نہایت درجہ کے تعصب سے ضلالت کو نہیں چھوڑتے۔مگر وہ ظلم اور ایذاء کے طریقوں میں ایک معمولی درجہ تک رہتے ہیں۔اپنے جور و ستم اور بے باکی کو انتہا تک نہیں پہنچاتے۔پس وہ تو اپنی سزا قیامت کو پائیں گے اور خدائے حلیم ان کو اس جگہ نہیں پکڑتا کیونکہ ان کی روش میں حد سے زیادہ سختی نہیں۔لہذا ایسے گناہوں کی سزا کے لئے صرف ایک ہی دن مقرر ہے جو یوم المجازات اور یوم الدین اور یوم الفصل کہلاتا ہے۔(۲) دوسری قسم کے وہ مجرم ہیں جو ظلم اور ستم اور شوخی اور بے با کی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کے ماموروں اور رسولوں اور راستبازوں کو درندوں کی طرح پھاڑ ڈالیں۔اور دنیا پر سے ان کا نام ونشان مٹا دیں اور ان کو آگ کی طرح بھسم کر ڈالیں۔ایسے مجرموں کے لئے جن کا غضب انتہا تک پہنچ جاتا ہے سنت اللہ یہی ہے کہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا غضب اُن پر بھڑکتا ہے اور اسی دنیا میں وہ سزا پاتے ہیں اور علاوہ اس سزا کے جو قیامت کو ملے گی۔اس لئے قرآنی اصطلاح میں اُن کا نام مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے۔یہ نکتہ یاد رہے کہ بلاؤں کے ٹلنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ لوگ مسلمان ہو جائیں کیونکہ مذہبی النمل: ۵۱ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۲۱۳ ۲۱۴)