حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 344
١٠٢٦ ہے۔لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے حالات جو کچھ شائع ہوئے ہیں ہم تو ان کا ذکر بھی نہیں کر سکتے مگر علوم آسمانی اور اسرار قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ پہلی شرط ہے۔اس میں توبۃ النصوح کی ضرورت ہے۔جب تک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھا لے اور اس کے جلال و جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجوع نہ کرے قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔اور رُوح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر رُوح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے علوم خدا کے ہاتھ میں ہیں۔پس اس کے لئے تقومی بطور نردبان کے ہے۔پھر کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ بے ایمان شریر خبیث النفس ارضی خواہشوں کے اسیر اُن سے بہرہ ور ہوں۔اس واسطے اگر ایک مسلمان مسلمان کہلا کر خواہ وہ صرف ونحو، معانی و بدیع وغیرہ علوم کا کتنا ہی بڑا فاضل کیوں نہ ہو دنیا کی نظر میں شيخ الكُلّ في الكُل بنا بیٹھا ہو لیکن اگر تزکیہ نفس نہیں کرتا تو قرآن شریف کے علوم سے اس کو حصہ نہیں دیا جاتا۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی توجہ ارضی علوم کی طرف بہت جھکی ہوئی ہے اور مغربی روشنی نے تمام عالم کو اپنی نئی ایجادوں اور صنعتوں سے حیران کر رکھا ہے۔مسلمانوں نے بھی اگر اپنی فلاح اور بہتری کی کوئی راہ سوچی تو بد قسمتی سے یہ سوچی ہے کہ وہ مغرب کے رہنے والوں کو اپنا امام بنالیں اور یورپ کی تقلید پر فخر کریں۔یہ تو نئی روشنی کے مسلمانوں کا حال ہے جو لوگ پرانے فیشن کے مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو حامی دین متین سمجھتے ہیں اُن کی ساری عمر کی تحصیل کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ صرف ونحو کے جھگڑوں اور الجھیڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ضالین کے تلفظ پر مرمٹے ہیں۔قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں۔اور ہو کیونکر جبکہ وہ تزکیہ نفس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔( ملفوظات جلد اول صفحه ۲ ۲۸ ۲۸۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا۔چوری۔تلف حقوق۔ریا۔مجب، حقارت ، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے۔لوگوں سے مروت خوش خلقی ہمدردی سے پیش آوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کچی وفا اور صدق دکھلا دے۔خدمات کے مقام محمود تلاش کرے۔ان باتوں سے انسان متقی کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں وہی اصل متقی ہوتے ہیں۔( یعنی اگر ایک ایک خلق فرڈ ا فرڈ ا کسی میں ہوں تو اُسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں ) اور ایسے ہی