حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 343

۱۰۲۵ سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لِبَاسُ التَّقْوای قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رُوحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی اُن کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۰،۲۰۹) حقیقی تقومی کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی۔حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ الله جلّ شانۀ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فَرْقَانَا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ ا یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالی کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا۔تمہاری عقل میں بھی نور ہو گا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہو گا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہو گا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نو ر سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷ ۱۷۸،۱۷) علوم ظاہری اور علوم قرآنی کے حصول کے درمیان ایک عظیم الشان فرق ہے۔دنیوی اور رسمی علوم کے حاصل کرنے کے واسطے تقویٰ شرط نہیں ہے۔صرف و نحو طبعی۔فلسفہ۔ہیئت و طبابت پڑھنے کے واسطے یہ ضروری امر نہیں ہے کہ وہ صوم وصلوٰۃ کا پابند ہو اور امر الہی اور نواہی کو ہر وقت مد نظر رکھتا ہو۔اپنے ہر قول و فعل کو اللہ تعالٰی کے احکام کی حکومت کے نیچے رکھے بلکہ بسا اوقات عموما دیکھا گیا ہے کہ دنیوی علوم کے ماہر اور طلبگار دہریہ منش ہو کر ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔آج دنیا کے سامنے ایک زبر دست تجر بہ موجود ہے۔یورپ اور امریکہ باوجود یکہ وہ لوگ ارضی علوم میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں اور آئے دن نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں لیکن اُن کی روحانی اور اخلاقی حالت بہت ہی قابل شرم الانفال: ٣٠ الحديد: ٢٩