حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 342
۱۰۲۴ تقویٰ قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ایک منتقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے۔جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔اور اپنی جلد بازیوں اور بدگمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۴۲) تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔محجب، خود پسندی، مال حرام سے پر ہیز اور بد اخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اُس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۸۳ - ملفوظات جلد اول صفحه ۵۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقویٰ اختیار کر لے۔اور بدقسمت وہ ہے جو ٹھو کر کھا کر اس کی طرف نہ جھکے۔الحکم، مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ کالم ۳۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۹۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک را ہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں۔ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام