حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 332
1+12 اس کے کچھ نہیں کہ وہ لوگ اپنے پُر جوش و عظوں سے عوام وحشی صفات کو ایک درندہ صفت بنادیں اور انسانیت کی تمام پاک خوبیوں سے بے نصیب کر دیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ جس قدر ایسے ناحق کے خون ان نادان اور نفسانی انسانوں سے ہوتے ہیں کہ جو اس راز سے بے خبر ہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے اسلام کو اپنے ابتدائی زمانہ میں لڑائیوں کی ضرورت پڑی تھی ان سب کا گناہ ان مولویوں کی گردن پر ہے کہ جو پوشیدہ طور پر ایسے مسئلے سکھاتے رہتے ہیں۔جن کا نتیجہ درد ناک خونریزیاں ہیں۔یہ لوگ جب حکام وقت کو ملتے ہیں تو اس قد ر سلام کے لئے جھکتے ہیں کہ گویا سجدہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور جب اپنے ہم جنسوں کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو بار بار اصرار ان کا اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ ملک دارالحرب ہے اور اپنے دلوں میں جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں۔اور تھوڑے ہیں جو اس خیال کے انسان نہیں ہیں۔یہ لوگ اپنے اس عقیدہ جہاد پر جو سراسر غلط اور قرآن اور حدیث کے برخلاف ہے اس قدر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص اس عقیدہ کو نہ مانتا ہو اور اس کے برخلاف ہو اس کا نام دخال رکھتے ہیں اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔چنانچہ میں بھی مدت سے اسی فتوے کے نیچے ہوں مگر وہ یاد رکھیں کہ در حقیقت یہ جہاد کا مسئلہ جیسا کہ ان کے دلوں میں ہے صحیح نہیں ہے۔اور اس کا پہلا قدم انسانی ہمدردی کا خون کرنا ہے۔یہ خیال ان کا ہرگز صحیح نہیں ہے کہ جب پہلے زمانہ میں جہاد روا رکھا گیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ اب حرام ہو جائے۔اس کے ہمارے پاس دو جواب ہیں ایک یہ کہ یہ خیال قیاس مع الفارق ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز کسی پر تلوار نہیں اٹھائی بجز اُن لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی اور سخت بے رحمی سے بے گناہ اور پر ہیز گار مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔اور ایسے دردانگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی اُن قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔دوسرے یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے تاہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ مسیح نہ تلوار اٹھائے گا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اُس کی دُعا اُس کا حربہ ہو گا اور اُس کی عقدِ ہمت اُس کی تلوار ہو گی۔وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کرے گا۔اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہوگا۔ہائے افسوس کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مونہہ سے کلمہ يضع الحرب جاری ہو چکا ہے۔۔