حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 331
الخطاء والزلة و من امور تخالف نصوص القرآن وما هي الا تلبيسات المفترين نور الحق حصہ اوّل۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۶۷) اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں :۔(1) دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری۔(۲) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔(۳) بطور آزادی قائم کرنے کے۔یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بے ہودہ ہے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۲) سوچنا چاہئے کہ اگر مثلاً ایک شخص ایک بچے مذہب کو اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سچائی اور اس کی پاک تعلیم اور اس کی خوبیوں سے ہنوز نا واقف اور بے خبر ہے تو کیا ایسے شخص کے ساتھ یہ برتاؤ مناسب ہے کہ بلا توقف اس کو قتل کر دیا جائے بلکہ ایسا شخص قابل رحم ہے اور اس لائق ہے کہ نرمی اور خلق سے اس مذہب کی سچائی اور خوبی اور روحانی منفعت اُس پر ظاہر کی جائے۔نہ یہ کہ اس کے انکار کا تلوار یا بندوق سے جواب دیا جائے۔لہذا اس زمانہ کے ان اسلامی فرقوں کا مسئلہ جہاد اور پھر اس کے ساتھ یہ تعلیم کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک خونی مہدی پیدا ہو گا جس کا نام امام محمد ہو گا اور مسیح اس کی مدد کے لئے آسمان سے اترے گا اور وہ دونوں مل کر دنیا کی تمام غیر قوموں کو اسلام کے انکار پر قتل کر دیں گے نہایت درجہ اخلاقی مسئلہ کے مخالف ہے۔کیا یہ وہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو انسانیت کے تمام پاک قوی کو معطل کرتا اور درندوں کی طرح جذبات پیدا کر دیتا ہے۔اور ایسے عقائد والوں کو ہر ایک قوم سے منافقانہ زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔( مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ اصفحہ ۹،۸) یا در ہے کہ مسئلہ جہاد کو جس طرح پر حال کے اسلامی علماء نے جو مولوی کہلاتے ہیں سمجھ رکھا ہے اور جس طرح وہ عوام کے آگے اس مسئلہ کی صورت بیان کرتے ہیں ہرگز وہ صحیح نہیں ہے اور اس کا نتیجہ بجز اور لغزشوں سے بھرا ہوا ہے۔اور قرآن کی نصوص صریحہ سے مخالف پڑا ہوا ہے سو وہ صرف مفتریوں کا افتراء ہے۔