حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 29

گئی ہے اور ایک نیا نسخہ تجویز کیا گیا ہے جو تمام جہان کے اصول سے نرالا اور سراسر عقل اور انصاف اور رحم سے مخالف ہے اور وہ یہ ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام جہان کے گناہ اپنے ذمہ لے کر صلیب پر مرنا منظور کیا تا ان کی اس موت سے دوسروں کی رہائی ہو۔اور خدا نے اپنے بے گناہ بیٹے کو مارا تا گنہگاروں کو بچاوے۔لیکن ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قسم کی مظلومانہ موت سے دوسروں کے دل گناہ کی پلید خصلت سے کیونکر صاف اور پاک ہو سکتے ہیں۔اور کیونکر ایک بے گناہ کے قتل ہونے سے دوسروں کو گذشتہ گناہوں کی معافی کی سند مل سکتی ہے۔بلکہ اس طریق میں انصاف اور رحم دونوں کا خون ہے کیونکہ گنہگار کے عوض میں بے گناہ کو پکڑنا خلاف انصاف ہے اور نیز بیٹے کو اس طرح ناحق سخت دلی سے قتل کرنا خلاف رحم ہے اور اس حرکت سے فائدہ خاک نہیں۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۳) وہ مسئلہ جو انجیل میں نجات کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا مصلوب ہونا اور کفارہ۔اس تعلیم کو قرآن شریف نے قبول نہیں کیا اور اگر چہ حضرت عیسی کو قرآن شریف ایک برگزیدہ نبی مانتا ہے اور خدا کا پیارا اور مقرب اور وجیہہ قرار دیتا ہے لیکن اس کو محض انسان بیان فرما تا ہے اور نجات کے لئے اس امر کو ضروری نہیں جانتا کہ ایک گنہ گار کا بوجھ کسی بے گناہ پر ڈال دیا جائے اور عقل بھی تسلیم نہیں کرتی کہ گناہ تو زید کرے اور بکر پکڑا جائے۔اس مسئلہ پر تو انسانی گورنمنٹوں نے بھی عمل نہیں کیا۔افسوس کہ نجات کے بارہ میں جیسا کہ عیسائی صاحبوں نے غلطی کی ہے ایسا ہی آریہ صاحبوں نے بھی اس غلطی سے حصہ لیا ہے اور اصل حقیقت کو بھول گئے ہیں کیونکہ آریہ صاحبان کے۔عقیدہ کی رو سے تو بہ اور استغفار کچھ بھی چیز نہیں اور جب تک انسان ایک گناہ کے عوض وہ تمام جوئیں نہ بھگت لے جو اس گناہ کی سزا مقررہ ہے تب تک نجات غیر ممکن ہے اور پھر بھی محدود اور پرمیشر اس بات پر قادر ہی نہیں کہ گناہ بخش دے اور سچی توبہ جو در حقیقت ایک روحانی موت ہے اور ایک آگ ہے جس میں انسان پر میشر کو خوش کرنے کے لئے جلنا قبول کرتا ہے وہ کچھ چیز ہی نہیں۔اس سے نعوذ باللہ پر میشر کی تنگ ظرفی ثابت ہوتی ہے۔اور جبکہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ تم اپنے قصور واروں کو بخشو اور اپنے نافرمانوں کو معافی دو اور آپ اس بات کا پابند نہیں ہے تو گویا وہ اپنے بندوں کو وہ خلق سکھلانا چاہتا ہے جو خود اس میں موجود نہیں۔اس صورت میں ایسے مذہب کے پابند جو لوگ ہیں ضرور ان کے دل میں یہ خیال آئے گا کہ جبکہ پر میشر کسی اپنے قصور وار کے گناہ نہیں بخشتا تو ہم کیونکر وہ کام کر سکتے ہیں